ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دولہا میاں نے جہیز میں ملنے والے ستانوے لاکھ کیوں ٹھکرا دیئے؟

Viral post, dowry , Indian media,
کیپشن:  مظفرنگر میں 26 سالہ دولہا نےجہیز میں ملنے والے  31 لاکھ بھارتی روپے سے انکار کر تے ہوئے کہا، اس رقم پر ان کا کوئی حق نہیں بنتا، یہ ان کے سسر کی محنت سے کمائی ہوئی رقم ہے۔ دولہا دلہن کی یہ تصویر انڈین میڈیا میں وائرل ہو رہی ہے اور دولہا  میاں کے اس  اقدام کی خوب تعریفیں ہو رہی ہیں۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: جہاں  جہیز کے بغیر شادی ہونا ممکن نہیں، وہاں دولہا میاں نے جہیز میں دیئےجا رہے لاکھوں روپے کو ٹھکرا کر سب کو حریان کر دیا۔ دولہا میاں نے جہیز میں ملنے والی بھاری رقم کو قبول نہ کرنے کی وجہ خود بتا دی۔ 

بھارت میں ایک  شادی کے دوران دولہا نے انہونی کر دی؛  سسرال والوں  کی جانب سے جہیز میں ملنے والے لاکھوں روپے کو  ٹھکرا اپنے اس فعل کی وجہ بھی بتا دی۔

بھارتی میڈیا  میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق 22 نومبر کو  اتر پردیش کے شہر مظفرنگر میں شادی کی ایک تقریب میں 26 سالہ دولہا میاں نے دل کو چھو لینے والی مثال قائم کرتے ہوئے جہیز میں 31 لاکھ  روپے(97 لاکھ پاکستانی روپے) نقدی لینے سے انکار کر دیا اور صرف 1 روپیہ شگون  کی حیثیت سے قبول کیا۔

شادی کے مہمانوں کے  بیانات کے مطابق 24 سالہ دلہن کے والد کورونا کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے، کدلہن کی والدہ  نے شادی کے موقع پر عام رواج کے مطابق بیٹی کو خوش رکھنے کے لئے دولہا کو زیادہ سے زیادہ نقد دینے کی کوشش کی اور  31 لاکھ روپے  ایک تھال میں سجا کر ردولہا کو پیش کئے۔

دولہا میاں نے کہال کیا،  جہیز کے  نام سے دی جا رہی یہ خطیر رقم قبول کرنے سے انکار کرتےہوئے کہا کہ میرا اس رقم پر کوئی حق نہیں۔ یہ دلہن کے والد کی محنت کی کمائی ہے، میں اسے قبول نہیں کر سکتا۔ 

 روایت  کو توڑتے ہوئے نقد رقم کو ٹھکرا دینے کے اس اقدام نے باراتیوں اور دلہن کے عزیزوں کو تو حیران کیا ہی، جب یہ بات میڈیا تک پہنچی تو سارا انڈیا ہی حیران ہے۔  

دولہا میاں کے والدین ان سے بھی بڑھ کر سنسکاری نکلے، انہوں نے اپنے برخودار کے اس اقدام کی حمایت کی اور کہا کہ ان کے بیٹے کے پاس اپنا پیسہ کافی ہے، اچھی زندگی گزارنے کے لئے درکار وسائیل مہیا کرنے میں جو کسر ہو گی اسے وہ خود پورا کریں گے۔  ک

 دلہن کے اہلِ خانہ نے اس اقدام پر دولہا اور ان کے والدین کا  شکریہ ادا کیا۔

 شادی کی دیگر رسوم خوشی کے ساتھ ادا کی گئیں اور دلہن مسکراہٹ اور عزت کے ساتھ اپنے سسرال روانہ ہوئی۔ 

تقریب میں موجود افراد نے دلہے کے اس قدم کو جہیز ک کی غیر سماجی رسم کے خلاف مضبوط پیغام قرار دیا۔