سٹی42: معرکہِ حق میں مار کھا کر انڈیا کا یہ حال ہو گیا کہ اب اپنے ہی سی سی ٹی وی کیمرے اسے اپنے خلاف جاسوسی کے کیمرے لگنے لگے۔ انڈیا نے ہر کیمرے کی سرکاری انسپکشن اور سورس کوڈ کی فراہمی لازمی قرار دے دی۔ کمپنیوں نے خوف کی بنیاد پر بنائے گئے نئے قوانین کو کاروبار کے لئے برباد کن قرار دے دیا۔
معرکہِ حق میں پاکستانی ہیکرز نے انڈیا کے گرڈ سٹیشن ہیک کر کے ناکارہ کر دیئے تھے اور سینکڑوں اہم ویب سائٹس ہیک کر کے ان کا ڈھیروں ڈیٹا اٹھا کر ڈارک ویب میں فروخت کے لئے ڈال دیا تھا۔
اب بھارت کو اچانک خوف لاحق ہو گیا ہے کہ اس کے سی سی ٹی وی کیمرے اسی کی جاسوسی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ اپنی نگرانی کے خوف کے باعث بھارت میں پاکستانی ہیکرز سے بچنے کے لئے اب سی سی ٹی وی کیمروں سے متعلق نئے سکیورٹی قوانین لائے جا رہے ہیں انڈیا میں اب کیمرہ ساز کمپنیوں کو ہارڈ ویئر، سافٹ ویئر اور سورس کوڈ سرکاری لیبارٹریوں میں جانچ کے لیے جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اس ہر کیمرے کی سکیورٹی ٹیسٹنگ پالیسی پر کمپنیوں کی جانب سے سپلائی میں تعطل اور بھاری نقصان کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایک سرکاری عہدے دار نے بتایا کہ اس پالیسی کے پیچھے نگرانی کے جدید آلات کے حوالے سے بھارت کی گہری تشویش کارفرما ہے۔
چار سال پہلے 2021 میں مودی حکومت کے اُس وقت کے نائب وزیر برائے آئی ٹی نے پارلیمنٹ میں بتایا تھا کہ سرکاری اداروں میں نصب 10 لاکھ کیمرے چینی کمپنیوں کے تھے۔ اس وزیر کو شبہ تھا کہ چینی کمپنیاں جو سی سی ٹی وی کیمرے انڈیا بھیجتی ہیں وہ نصب ہونے کے بعد جو کچھ ریکارڈ کرتے ہیْں اس کی ایک کاپی چین بھیج دیتے ہیں۔ ایسے کسی شبہ کی کبھی شواہد سے تصدیق نہیں ہوئی لیکن بھارت کا یہ خوف اب دس مئی کے معکہِ حق مین پاکستانی ہیکرز سے بری طرح پٹائی کروانے کے بعد کئی گنا بڑھ گیا ہے۔
اب نافذ ہونے والے نئے قوانین کے تحت کیمرے بنانے والی کمپنیوں جیسے چینی کمپنیوں ہائیک ویژن، شیاؤمی اور ڈاہوآ، جنوبی کوریا کی کمپنی ہنوا اور امریکی کمپنی موٹورولا سولوشنز جیسے دیگر مینوفیکچررز کو اپنے کیمرے بھارتی حکومت کی لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کروانے ہوں گے۔
یہ قانون انٹرنیٹ سے منسلک ان تمام سی سی ٹی وی کیمروں پر لاگو ہوتا ہے جو 9 اپریل کے بعد بنائے یا انڈیا منگوائےگئے۔
حال ہی میں سی سی ٹی وی کیمرے فراہم کرنے والی کئی کمپنیوں نے کہا کہ وہ نئے ضوابط پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کچھ مہلت کی درخواست کی لیکن سخت خوفزدہ حکومت نے اوقت دینے پر تیار نہیں۔ انڈین حکومت کے معرکہ حق کی مار کھائے ہوئے حکام کہتے ہیں کہ یہ پالیسی ’حقیقی سکیورٹی خدشات‘ سے متعلق ہے اور اس پر عمل درآمد ضروری ہے۔
بھارت بظاہر یہ کہتا ہے کہ اس کے ضرورت سے بہت زیادہ سخت قانون کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانے کے لئے نہیں، لیکن صاف دکھائی دیتا ہے کہ انڈیا کو چینی ساختہ کیمروں سے ڈر لگتا ہے۔ انہیں یہ وہم ہے کہ پاکستانی ہیکر چینی ساختہ ہارڈوئیر کو زیادہ آسانی سے ہیک کر لیتے ہیں۔
کیمرہ ساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ محدود جانچ کی سہولیات، طویل فیکٹری انسپکشن اور سورس کوڈ کی جانچ سے متعلق سرکاری تقاضے ان کے کاروبار میں تاخیر کا سبب بن رہے ہیں جس سے کاروباری منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ اب چار کیمرے لگوانے والوں کو بھی بہت دن تک اپنے کیمروں کی کلئیرنس کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
چین کی ایک کمپنی ہنوا کے جنوبی ایشیا کے ڈائریکٹر اجے دوبے نے بھارتی وزات آئی ٹی کو ایک ای میل میں خبردار کیا کہ اس اقدام سے ’انڈسٹری کو لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو گا اور مارکیٹ میں زلزلہ آ جائے گا‘۔
بھارت کے شہروں، دفاتر اور رہائشی علاقوں میں حالیہ برسوں میں لاکھوں کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نئی دہلی میں جہاں انڈیا کی مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں اور اہم ریاستی اداروں کے مرکزی دفاتر بھی ہیں، یہاں ڈھائی لاکھ سے زائد کیمرے لگائے جا چکے ہیں جن میں سے اکثر اہم مقامات پر نصب ہیں۔

بھارت میں گزشتہ سال سی سی ٹی وی کیمروں کی مارکیٹ کا حجم 3.5 ارب ڈالر تھا جوکہ 2030 تک 7 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
اگرچہ بھارت میں جون 2024 سے حکومتی شعبے میں استعمال ہونے والے تمام کیمرے ٹیسٹنگ کے پابند تھے لیکن اب پبلک کے استعمال میں آنے والی تمام ڈیوائسز پر اس کا اطلاق ہونے سے صورت حال زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔
سی سی ٹی وی کیمروں کے 73 فیصد یوزر عام شہری
ایک ریسرچ کمپنی کے مطابق بھارت میں سی سی ٹی وی کیمروں کی کل فروخت میں 27 فیصد حصہ سرکاری اداروں جبکہ 73 فیصد پرائیویٹ کاروباری اداروں، صنعتوں، ہوٹلوں اور گھریلو یوزرز کا ہے۔

نئے قوانین کے تحت کیمروں میں ٹیمپر پروف ڈیزائن، میل ویئر ڈیٹیکشن اور ڈیٹا انکرپشن جیسی سکیورٹی خصوصیات ہونا لازم ہے۔
دو صنعت کاروں نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ کمپنیوں کو اپنے سافٹ ویئر کو خود ٹیسٹ کر کے رپورٹ سرکاری لیب کو دینا ہوگی۔
اگر ڈیوائس میں خود تیار کردہ کمیونیکیشن پروٹوکولز استعمال کیے جا رہے ہوں تو حکومتی حکام کمپنیوں سے سورس کوڈ بھی مانگ سکتے ہیں۔
یہ قوانین بھارتی حکام کو غیر ملکی فیکٹریوں کا دورہ کرکے سائبر سکیورٹی کا جائزہ لینے کا اختیار بھی دیتے ہیں۔