ویب ڈیسک:ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں مختلف ایرانی شہروں میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق خوزستان میں واقع ایک بڑے اسٹیل پلانٹ پر حملے کے بعد اس کی پیداوار معطل ہو گئی، جبکہ دارالحکومت تہران میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسی دوران بوشہر کے قریب ایٹمی پاور پلانٹ کے اطراف بمباری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طویل عرصے بعد جنگ میں لینڈ مائنز کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔ شیراز کے نواحی علاقوں میں متعدد مقامات سے بارودی سرنگیں برآمد ہوئیں، جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بارودی مواد فضائی ذریعے سے گرایا گیا۔
ماہرین کے مطابق عام شہریوں کے لیے خطرناک ہونے کے باعث لینڈ مائنز کے استعمال پر عالمی سطح پر پابندیاں عائد ہیں، اور ماضی میں ان کا استعمال آخری بار 1991 کی خلیجی جنگ 1991 کے دوران دیکھا گیا تھا۔
دوسری جانب ایران نے بھی بھرپور جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ ایرانی فورسز نے تل ابیب سمیت خطے میں امریکی تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق دبئی میں امریکی فوجی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں بڑی تعداد میں اہلکار موجود تھے۔
اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں مزید حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی اور پانچ بھارتی شہری زخمی ہوئے، جبکہ سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر حملے کے نتیجے میں متعدد امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔ مزید برآں ایک آئل ٹینکر طیارہ اور ریڈار طیارہ تباہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، جبکہ کویت کے ایئرپورٹ کا ریڈار نظام متاثر ہوا۔
رپورٹس کے مطابق عمان کے قریب ایک امریکی بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
موجودہ صورتحال نے مشرق وسطیٰ کو ایک بڑے تنازع کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔