سٹی42: پاکستان میں گذشتہ سال کے آخری چار مہینوں اور موجودہ سال کے پہلے دو مہینوں میں معمول سے بہت کم بارشیں ہوئی ہیں۔ زراعت کے لئے پانی کی شدید قلت ہے اور زیر زمین پانی بھی تیزی سے نیچے جا رہا ہے۔
منگلا اور تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول پر ہے۔ منگلا میں اس وقت پانی کی سطح ایک ہزار ساٹھ فٹ اور تربیلا میں یہ چودہ سو فٹ ہے۔ جب ان ڈیموں میں پانی کا لیول یہ آ جاتا ہے تو ان ڈیموں سے زراعت کے لئے مزید پانی نہیں نکالا جا سکتا۔
ماحولیاتی منظر نامے کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ امکان ہے کہ سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے کئی حصوں میں خشک سالی بڑھ سکتی ہے۔
ملک کے بالائی حصوں میں موسم سرما کے دوران کچھ بارش اور برفباری ہوئی۔وسطی حصوں میں کم بارشیں ہوئیں۔ جنوبی حصوں میں تقریباً خشک موسم رہا اور محکمہ موسمیات کے مطابق یہ خشک موسم چھ مہینوں سے زائد عرصے پر محیط رہا۔
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کےمطابق دریاؤں اور ڈیموں میں پانی چالیس فیصد سے زائد کم ہے اور اپریل میں صرف پینے کے لیے پانی کی تقسیم ہو گی جب کہ مئی کے شروع میں صورت حال کا دوبارہ جائزہ لے کر خریف کی فصل کے لیے پانی کی تقسیم کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ارسا ا الرٹ
ارسا کے اعلامیے کے مطابق اپریل کے مہینے میں فراہم کیا جانے والا پانی معمول کی ضرورت سے چالیس فیصد سے کم ہو گا ۔ مئی کے شروع میں دوبارہ صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔
میٹیریلوجیکل ڈیپارٹمنٹ کا الرٹ
پاکستان میں محکمہ موسمیات کی جانب سے چند ہفتے پہلے تین صوبوں میں خشک سالی کی اطلاع دی گئی اور خصوصی الرٹ جاری کیا گیا ۔
محکمہ موسمیات کےالرٹ میں کہا گیا کہ سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے نچلے میدانی علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ جنوبی حصوں میں خشک موسم کا دورانیہ دو سو دنوں سے بھی زیادہ رہا اور مارچ کے مہینے میں پاکستان کے جنوبی حصے میں درجہ حرارت معمول سے دو تا تین سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔
ملک کے وسطی اور بالائی علاقوں میں حالیہ ہفتوں میں بارش ہوئی تاہم ستمبر سے لے کر مارچ کے تیسرے ہفتے تک یہ بارشیں معمول سے چالیس فیصد کم رہیں جس کی وجہ سے منگلا اور تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد بہت کم ہے جب کہ دریاوں میں بھی پانی کی سطح کافی کم ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے الرٹ کے بعد ہی پاکستان میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے ادارے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی یعنی ارسا نے اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ اپریل کے مہینے میں صرف پینے کے لیے پانی کی تقسیم کی جائے گی اور اس کے بعد صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
محکمہ موسمیات نے پاکستان میں 62 فیصد تک معمول سے کم بارشوں کے باعث خشک سالی کی نشاندہی کی۔
محکمہ موسمیات نے پاکستان میں یکم ستمبر 2024 سے 21 مارچ 2025 تک معمول سے 62 فیصد تک کم بارشیں ہونے کی تصدیق کی۔
یکم ستمبر 2024 سے 21 مارچ 2025 تک پاکستان بھر میں مجموعی طور پر 40 فیصد کم بارشیں ہوئی ہیں۔سب سے کم بارشیں صوبہ سندھ میں ہوئیں جہاں اسی مدت کے دوران معمول سے 62 فیصد کم بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ اس کے بعد بلوچستان صوبے میں بھی 52 فیصد کم بارش ہوئی۔
صوبہ پنجاب میں معمول سے 38 فیصد، خیبر پختونخوا میں معمول سے 35 فیصد اور آزاد کشمیر میں معمول سے 29 فیصد کم بارشیں ہوئیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ بارشوں سے وسطی اور بالائی علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال بہتر ہوئی۔ تاہم سندھ اور بلوچستان کے جنوبی حصوں اور پنجاب کے مشرقی میدانی علاقوں میں خشک سالی برقرار ہے۔
محکمہ موسمیات نے یہ بھی نبتایا کہ اس مارچ میں جنوبی علاقوں میں اوسط درجہ حرارت معمول سے 2 سے 3 ڈگری زیادہ ہے۔ کچھ جنوبی علاقوں میں مسلسل خشک دنوں کی تعداد 200 سے بھی تجاوزکر چکی ہے، خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
ماہرین کیا بتا رہے ہیں
میٹ ڈیپارٹمنٹ اور ارسا کے الرٹس کے بعد کیا ملک کے جنوبی حصے کو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟ اس کی وجوہات کیا ہیں اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے؛ ارسا اور نجی شعبے میں پانی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سنگین خطرہ سے دوچار ہے۔
سابق وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے اپنے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اس خشک سالی کی وجہ ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ پانی کے انتظام اور اسے محفوظ بنانے کےلیے ناقص نظام ہے۔
شیری رحمان نے پانی کی قلت کے دوران نئی نہروں کی تعمیر کے متعلق رائے دیتے ہوئے کہا، اسے اتفاق رائے کے بغیر یکطرفہ واٹر چینل یا نئی نہروں سے مزید خراب نہ کیا جائے۔
پانی کے شعبے کے ماہر ڈاکٹرحسن عباس شیری رحمان کی رائے سے ملتی جلتی بات کہتے ہیں کہ پاکستان میں پانی کی کمی سے زیادہ اس کی مینجمنٹ کا ایشو ہے۔ پانی کی کمی اتنی زیادہ نہیں ہے جتنی زیادہ اس کے ناقص انتظام کی وجہ سے محسوس ہوتی ہے اور اس کی بڑی وجہ تو وہ پونے دو سو سال پرانا دریائی اور نہری سسٹم ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے پیدا کردہ مسائل کو مینیج نہیں کر پا رہا اور نئی صورتحال سے ہم آہنگ نہیں ہے اور جب بارشیں کم ہوتی ہیں تو ہمیں اس کی شدت بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
نئے ڈیمز کی تعمیر ایک حل
ارسا کے ایک رکن نے کہا، خشک سالی کے بحران کو مسقتل میں پھیلنے سے روکنے کے لئے پانی کے سٹوریج کے نظام کو بہتر کیا جائے جس میں نئے ڈیم بنانا شامل ہیں۔
انھوں نے کہا ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے اب یا تو بارشیں کم ہوتی ہیں یا پھر اس کے مقابلےمیں دوسری طرف اتنی زیادہ بارشیں ہوتی ہیں کہ سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ انھوں نے کہا ہمارا سسٹم بوسید ہو چکا ہے اس لیے جب تین مہینے بارش نہیں ہوتی تو ڈیمز مین تھوڑا پانی ذخیرہ ہونے کی وجہ سے خشک سالی کا منظر پیدا ہو جاتا ہے اور معمول سے کچھ زیادہ بارش ہو جائے تو ڈیمز میں گنجائش نہ ہونے کے سبب سیلاب آجاتا ہے ؛ ہمارا پانی کا نظام دونوں صورت میں دباؤ کا شکار رہتا ہے۔
آنے والے مہینوں کے متعلق بے یقینی
ارسا کے ترجمان رانا خالد نےبتایا کہ اس صورتحال کی وجہ ماحولیاتی تبدیلی ہے جس کی وجہ سے بارشیں کم ہوئیں اور ملک پانی کی کمی کا شکار ہے۔
رانا خالد نے ایمانداری سے اپنی معلومات شئیر کرتے ہوئے کہا، مستقبل کے مہینوں کے متعلق ابھی کچھ واضح نہیں ہے کہ موسم کا پیٹرن کیا رہے گا۔ یہ خشک سالی کی طرف بھی جا سکتا ہے اور ملک میں زیادہ بارشوں کی وجہ سے سیلاب کی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔