ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شینجن ملکوں میں آمدورفت کیلئے آسان ترین راستہ کھل گیا

شینجن ملکوں میں آمدورفت کیلئے آسان ترین راستہ کھل گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: اچھی زندگی کے لئے کم ترقی یافتہ آبائی ملک چھوڑنے والوں کی سنی گئی، دنیا کے بہترین ملک نے مفت شہریت دینے کی پیشکش کر دی، شہریت کے ساتھ جو پاسپورٹ ملے گا اس سے ڈیرھ سو ملکوں میں ویزا کے بغیر جا  اور واپس آ سکیں گے۔ 

کیریبین جزائر میں حکومت نے  صرف ایک مکان خرید لینے والوں کو شہریت کی پیشکش کر دی ہے اس طرح شہری بننے والوں کو جو پاسپورٹ ملے گا وہ اتنا اہم ہے کہ اس پاسپورٹ پر  150 ممالک میں ویزہ کے بغیر مفت انٹری ہو گی۔
مالدار افراد کے لیے یہ جزائر زیادہ پُرکشش اس لیے بھی ہیں کہ یہاں کا شہری بننے کے بعد انہیں بہت سے ٹیکس بھی ادا نہیں کرنا پڑیں گے۔

صرف ایک مکان خریدیں اور شہری بھی بن جائیں
مشرقی کیریبین کے خوبصورت سمندری ساحل حسن پرست انسانوں کے لئے مسقتل کشش ہیں، یہاں سال کے تمام دنوں مین از حد سکون سے بھری زندگی الگ سے ایک کشش ہے لیکن اب مشرقی کیریبین کے علاقہ میں رہنے کے لئے مکان تلاش کرنے والوں کے لیے صرف سمندر کے خوبصورت ساحل اور پُرسکون زندگی ہی ایک کشش نہیں ہے بلکہ یہاں گھر خریدنے پر اب شہریت اور  پاسپورٹ بھی مل رہے ہیں۔
خاص طور سے امریکہ  ٹرمپ حکومت کی غیر ملکیوں اور تارکینِ وطن کیلئے پیدا کی ہوئی مشکلات، سیاسی اور سماجی غیریقینی کے سبب کیریبین جزیروں میں کم ترقی یافتہ ملکوں کے  اپناملک چھوڑنے والوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

صرف دو لاکھ ڈالر انویسٹ کریں اور شہری بھی بن جائیں
کرییبین زائر  میں شامل پانچ جزیرے  اینٹیگوا و باربوڈا، ڈومینیکا، گریناڈا، سینٹ کٹس اور سینٹ لوشیا  صرف  دو لاکھ ڈالر لے کر یہاں انویسٹمنٹ کیلئے آنے والوں  کو شہریت بھی دے رہے ہیں۔
صرف ایک  گھر خریدیں  تو اس کے ساتھ آپ کو جو پاسپورٹ ملے گا اس پاسپورٹ پر  آپ انگلینڈ،یورپ کے تمام شینگین ممالک اور کئی دوسرے خوبصورت اور ترقی یافتہ ملکوں کا ویزا کے بغیر سفر کر سکتے ہیں، ان ملکوں کی کل تعداد  150  ہے جو کریبین جزائر کے رہنے والوں کو  کوئی انتظار کروائے بغیر صرف پاسپورٹ دیکھ کر انٹری کی اجازت دے دیتے ہیں۔

کیریبین جزائر کی ایک اور خوبی وہاں کا انویسٹر فرینڈلی ماحول ہے، وہاں ٹیکس انتہائی کم ہیں اور وہاں بزنس  رجسٹرد کر کے بہت سے ملوں مین سہولت کے ساتھ تجارت، ایکسپورٹ کرنے والوں کو ان کی کمائی کے تناسب سے انتہائی مناسب ٹیکس ادا کرا پرتے ہین جو دوسرے بہت سے ملکوں میں کافی زیادہ ہوتے ہیں۔


 ترقی کیلئے لئے براہ راست چندہ دین اور شہری بن جائیں

ان جزائر میں پراپرٹی خریدنے کے علاوہ نیشنل ڈویلپمنٹ فنڈ میں چندہ جمع کروا کر بھی شہریت حاصل کی جا سکتی ہے۔

دوہری شہریت رکھنے کی بھی اجازت ہے

 پانچوں کیریبین جزائر وہاں گھر خرید کر یا انوسیٹمنٹ کر کے شہری بننے والوں  کو دیگر ممالک کی شہریت رکھنے کی بھی اجازت دیتے ہیں۔ یعنی کوئی بھی خواہشمند اپنے ملک کی شہریت برقرار رکھتے ہوئے کیریبین جزائر کا بھی شہری بن سکتا ہے۔ 

جلدی کیجئے، امریکہ سے نکلنے والے بہت سے لوگ گھر خرید رہے ہیں
کیریبین جزائر میں گھر کی خریداری کے عوض شہریت کی پیشکش نے دنیا بھر کے تارکین وطن کی توجہ اپنی طرف مبذول کر رکھی ہے۔
ایک مقامی سٹیٹ ایجنسی ’لگژری لوکیشنز‘ کی مالک نادیہ ڈائسن کہتی ہیں کہ اینٹیگوا میں گھروں کی ڈیمانڈ اچانک بڑھ گئی ہے۔
انھوں نے  بتایا کہ ’تقریباً 70 فیصد خریدار یہاں کی شہریت چاہتے ہیں اور ان کی اکثریت کا تعلق امریکہ سے ہے۔‘
’ہم ان سے سیاسی گفتگو نہیں کرتے لیکن امریکہ میں سیاسی غیر یقینی یقیناً اس دلچسپی کی بڑی وجہ ہے۔‘

Caption   ’لگژری لوکیشنز‘ کی مالک نادیہ ڈائسن

’اب سب ہی خریدار کہہ رہے ہیں کہ انھیں شہریت کے لئے گھر چاہیے۔ ہم نے اتنے گھر پہلے کبھی فروخت نہیں کیے۔‘
اینٹیگوا کے اس پروگرام کے تحت گھر خریدنے والوں کے لیے وہاں مستقل رہائش اختیار کرنا لازمی نہیں ہے لیکن کچھ خریدار گھر خرید کر پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد کسی شنگین ملک جانے کی بجائے وہیں رہ رہے ہیں کیونکہ زندگی کی بیشتر سہولتین تو ان جزائر مین موجود ہیں ہی، اس کے ساتھ نیچر کی بیوٹی اور کرائم فری سوسائٹی کے ایڈوانتیج اضافی ہیں۔
نادیہ کہتی ہیں کہ: ’کچھ خریدار یہاں منتقل بھی ہو چکے ہیں۔‘

اب تک سامنے آنے والے ڈیتا کے مطابق ترکی، نائجیریا اور چین ایسے ممالک ہیں جہاں کے باشندے کیریبین جزائر میں رہائش اختیار کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ امریک یشہری بھی یہاں کی شہریت مانگتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ہینلی اینڈ پارٹنرز فرم کے مطابق گذشتہ برسانویسٹمنٹ کے ساتھ  شہریت لینے کی درخواستیں جمع کروانے والے افراد میں بڑی تعداد امریکی باشندوں کی تھی۔اس برطانوی فرم کے مطابق یوکرین، ترکی، نائجیریا اور چین دیگر ایسے ممالک ہیں جہاں کے باشندے کیریبین جزائر میں رہائش اختیار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

اس سال کام بڑھ گیا
 گذشتہ برس کے آخری مہینوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت کے حصول کے لیے آنے والی  درخواستیں ماضی کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ تھیں۔
ہینلی اینڈ پارٹنرز سے منسلک ڈومینک وولیک کہتے ہیں کہ مسلح تشدد  اور  'یہود ی مخالف رویے' سے پریشان امریکی باشندے اس وقت اضطراب کا شکار ہیں۔ ان میں سے جو  لوگ امریکہ سے  کہیں اور جانے کا سوچتے ہیں تو کیریبین جزائر ان کی منزل بن رہے ہیں۔
15 سے 20 فیصد درخواست گزار کریبین جزائر میں رہنے کے لئے منقتل ہو رہے ہیں۔ (باقی شہریت حاصل کر کے دوسرے ملکوں میں جانے کو ترجیھ دے رہے ہیں۔)  بہت سارے لوگوں کے لیے یہ ایک انشورنس پالیسی ہے۔ دوسری شہریت ہونا ایک اچھا بیک اپ پلان ہوتا ہے۔

انٹرنیشنل سفر کی آسانی سب سے بڑی سہولت
 کیریبین پاسپورٹ سے انٹرنیشنل سفر کی آسانی کاروباری افراد کی خاص توجہ کا مرکز ہے اور وہ سکیورٹی کے حوالے سے بھی اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔
 کچھ امریکی شہری ایسے پاسپورٹ پر سفر کرنا پسند کرتے ہیں جس کے استعمال سے کوئی سیاسی مسائل پیدا نہ ہوں۔
 دو برس پہلے تک امریکہ سے نقل مکانی کر کے کیریبین جانے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی لیکن سنہ 2024 اور 2025 میں لوگوں کی کیریبین جزائر میں دلچپسی بڑھنے لگی۔
امریکہ چھوڑ کر کیریبین جانے والوں میں کچھ  ایسے ڈیموکریٹ بھی  ہیں جو کہ ٹرمپ کو اس قدر ناپسند کرتے ہین کہ ٹرمپ کی حکومت میں رہنے سے بچنے کے لئے کیریبین جزائر جا رہے ہیں۔ ان میں کچھ  پسند نہیں کرتے اور ایسے رپبلکن بھی  ہیں جو ان ریاستوں مین رہ رہے ہیں جہاں ڈیموکیٹک پارٹی کی مسقتل حکومت رہتی ہے اور وہ اب ڈیموکریٹس کی حکومت میں رہنے  کو پسند نہیں کرتے۔‘
صرف امریکہ ہی نہیں کینیڈا سے بھی لوگ کیریبین جزائر جا کر شہری بن رہے ہیں۔ 
کینیڈا سے تعلق رکھنے والے رابرٹ ٹیلر نے اینٹیگوا میں ایک پراپرٹی خریدی ہے اور وہ رواں برس سے ہی وہاں اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کی ابتدا کرنا چاہتے ہیں۔
گذشتہ موسم گرما میں سرمایہ کاری کی حد کو دو لاکھ ڈالر سے بڑھا کر تین لاکھ ڈالر کردیا گیا تھا لیکن اس سے پہلے  ہی رابرٹ وہاں دو لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ شہریت حاصل کرنے کے بعد اینٹیگوا میں انھیں مستقل رہائش کی کسی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور وہ وہاں کاروبار کے مواقع سے بھی فائدہ اُٹھا سکیں گے۔
 رابرٹ ٹیلر کی نئے ملک  مین بسنے کی اصل وجہ بہرحال کچھ اور ہے، وہ کہتے ہیں، میں نے اینٹیگوا کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ وہاں خوبصورت سمندر ہے، دوستانہ مزاج لوگ ہیں اور موسم بھی انتہائی خوشگوار ہوتا ہے۔



کینیڈا سے تعلق رکھنے والے رابرٹ ٹیلر نے اینٹیگوا میں ایک پراپرٹی خریدی ہے
لیکن سرمایہ کاری کے عوض شہریت دینے کے ایسے پروگرام اکثر تنازعات کی زد میں بھی رہتے ہیں۔ سنہ 2012 میں پہلی مرتبہ اینٹیگوا کی حکومت نے "پاسپورٹ کی فروخت"  کی سکیم شروع کی تھی۔
اس وقت وہاں مظاہرین سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکل آئے تھے۔ اینٹیگوا کی پارلیمنٹ کی سابق سپیکر جزال آئزک کہتی ہیں کہ: ’وہاں قوم پرستی کے جذبات اُبھر آئے تھے، لوگوں کو ایسا محسوس ہوا جیسے ہم اپنی شناخت فروخت کر رہے ہیں وہ بھی ان لوگوں کو جو ہمیں جانتے نہیں۔‘
بین الاقوامی برادری کو یہ خدشات بھی ہیں کہ نگرانی میں کمزوری کیریبین ممالک میں جرائم پیشہ افراد کی آمد و رفت کو بڑھا دے گی۔

یورپی یونین کی سنجیدہ وارننگ

یورپی یونین پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ وہ پاسپورٹ فروخت کرنے والے کیریبین جزائر کے شہریوں کی اپنے ممالک میں ویزہ فری انٹری بند کر سکتی ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے بھی کہا تھا کہ مالی جرائم میں ملوث افراد اور ٹیکس چور کیرببین ممالک کی اس سکیم سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں گے۔
یورپی کمیشن کی ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پانچ کیریبین جزائر کی شہریت کی سکیموں کی ’نگرانی‘ کر رہے ہیں اور سنہ 2022 سے ان ممالک کے حکام سے بات چیت بھی جاری ہے۔
تاہم پانچوں کیریبین جزائر شہریت دینے کے معاملے پر کوتاہی برتنے کے دعوؤں پر غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
ڈومینیکا کے وزیرِ اعظم روزیویلٹ سکیرٹ نے اپنے ملک کے پروگرام کو ’شفاف‘ قرار دیا ہے۔
سینٹ لوشیا کے وزیرِ اعظم فلپ جے پیئر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک سرمایہ داروں کو پاسپورٹ کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھتا ہے کہ ان کی یہ سکیم غیرقانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

بین الاقوامی دباؤ کے سبب ان جزائر نے خطے میں ایک نیا ریگولیٹر قائم کیا ہے جو کہ پاسپورٹ سکیموں کی نگرانی کر رہا ہے۔
سینٹ کٹس کے صحافی آندرے ہوئی کہتے ہیں کہ ان کے ملک کی پاسپورٹ سکیم کو مقامی افراد کی حمایت حاصل ہے۔
’عوام جانتے ہیں کہ مقامی معیشت میں اس کا کردار ہے اور وہ اس سے حاصل ہونے والے پیسے کے حکومتی استعمال کو سراہتے بھی ہیں۔‘