ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران کے پاس ایٹم بم نہیں دیکھنا چاہتے: ڈونلڈ ٹرمپ

ایران کے پاس ایٹم بم نہیں دیکھنا چاہتے: ڈونلڈ ٹرمپ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو بہت بُری مار پڑی، وہ اچھی زبان استعمال نہیں کر رہا، کہا ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس ایٹم بم ہو، ایران سے کہا ہے کہ یورنیم کی افزدوگی جاری نہیں رکھ سکتا۔

  امریکی صدر ٹرمپ اور سربراہ یورپی یونین کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں  انہوں نے کہا کہ میرے علم نہیں اس وقت غزہ میں کیا ہورہا ہے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  کہا ہے کہ غزہ میں کیا ہو رہا ہے، اس کا انہیں مکمل علم نہیں

  امریکہ نے اب تک خوراک کی مد میں 60 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔

 ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غزہ کے لیے بھاری امداد جاری کی گئی لیکن کسی نے امریکہ کا شکریہ ادا نہیں کیا۔

 انہوں نے الزام عائد کیا کہ حماس نہ صرف یرغمالیوں کو فوری رہا کرنے سے انکار کر رہی ہے بلکہ غزہ کو بھیجی گئی امداد بھی چوری کر رہی ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ ”غزہ میں قحط نہیں، مگر خوراک کی شدید کمی ضرور ہے۔“

 صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو سے غزہ میں امداد کی فراہمی اور دیگر امور پر بات چیت کرنے کا بھی انکشاف کیا ۔

 ایران سے متعلق گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے ایران کو واضح طورپر آگاہ کیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی جاری نہیں رکھ سکتا۔

 انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ ایران ایک بار پھر افزودگی کی کوشش کر رہا ہے اور ہم کبھی اسے اس کی اجازت نہیں دیں گے۔

  ایران کو بہت بُری مار پڑی، وہ اچھی زبان استعمال نہیں کر رہا ہے۔

 صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، اور اگر ایسا ہوا تو امریکا ان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔