چوتھی قسط
اُٹھے جنازہ جوکل ہمارا
قسم ہے تم کونہ دینا کاندھا
مدھوبالاکی بہن مُدھربھوشن کادلیپ کمار اورمدھو کے تعلّقات کے حوالے سے کہناہے کہ مدھو کا اصرار تھا کہ وہ(دلیپ کمار) اس کے باپ سے معذرت کرے،میرے والد نے مدھو پر کبھی منگنی توڑنے کے لئے دبائو نہیں ڈالا اور نہ ہی وہ دلیپ کو معافی مانگنے پرمجبور کرنے کے حامی تھے۔ کشورکمار سے شادی کے بعد وہ اپنی بیماری سے بہت بیزار تھی اور اکثر زاروقطار روتے ہوئے چیخ چیخ کر کہتی تھیں مجھے زندہ رہنا ہے مجھے مرنا نہیں ہے،وہ ایک بھرپور زندگی دلیپ کے ساتھ گزارنے کی خواہش مند تھیں اور اکثر خود کلامی کرتے ہوئے بڑبڑاتی تھیں کہ ’’ڈاکٹر کب علاج نکالیں گے؟‘‘ مجھے اچھّی طرح یاد ہے کہ جب بھائی جان نے سائرہ بانو سے شادی کی تو آپا بہت آزردہ تھیں کیونکہ وہ دلیپ کمار کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے چاہتی تھیں۔میں نے آپا کو یہ کہتے سناتھاکہ ان کے نصیب میں وہ (سائرہ بانو) تھی میں نہیں۔وہ یہ بھی کہتی تھیں کہ انہوں نے ایک خوب صورت خاتون سے شادی کی ہے،وہ بہت وفادار ہے،میں دلیپ کے لئے بہت خوش ہوں۔‘‘

مدھو بالا کے والد نے بہت تگ و دو کے بعد دلیپ کے پیار کو مدھو کے دماغ سے نکال دیا اور یہ بھی ہوا کہ مدھو کے دل ودماغ میں دلیپ کے لئے نفرت انگیز جذبات پیدا ہوگئے تھے اور انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ دلیپ کو میری آخری رسومات میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔ اب دیکھیں اس کا راوی کون ہے۔معروف شاعر شکیل بدایونی فلم’’مغل اعظم‘‘کی شوٹنگز کے دوران مدھو کے بہت قریب آ گئے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ مدھو نے راز دارانہ انداز میں انہیں یہ بات کہی تھی۔ہوا یوں کہ ایک دن وہ بہت اداس تھیں،آنکھوں میں چھلکتے آنسو لئے بھرائی ہوئی آواز میں انہوں نے مجھے کہا کہ جب میں مر جائوں تو قبرستان میں میرے آخری سفر میں دلیپ کو شرکت نہ کرنے دی جائے۔مجھے یہ سُن کر حیرت تو ہوئی مگر میں اس کے جذبات سے شناسا تھا۔اس کے مرنے کے بعد آخری خواہش مجھے ایک عرصہ تک پریشان کرتی رہی تاہم میں نے اسے ’’مغل اعظم‘‘ کے ایک گانے میں یوں سمودیا
خدانگہبان ہوتمھارا
ترپٹے دل کاپیام لے ہو
تمھاری دُنیا سے جارہے ہیں
تم ہمارا سلام لے لو
اُٹھے جنازہ جوکل ہمارا
قسم ہے تم کونہ دینا کاندھا

فلم کا آخری گانا بھی آپ کو یاد ہوگا ’’خدا نگہبان ہو تمہارا‘‘ یہ گانا مدھو کے آخری وقت میں ایک حقیقت بن کر سامنے آیا۔جب مدھو کی موت کا اعلان کیا گیاتو دلیپ اس وقت مدراس کے علاقے چنائے میں شوٹنگ کر رہے تھے فلم’’گوپی‘‘ کی۔ یہ خبر سُن کر انہوں نے شوٹنگ ختم کر دی اور بمبئی کے لئے روانہ ہوگئے۔اب اسے شومئی قسمت کہیں یا مدھو کی دلی خواہش کا نتیجہ کہ جب دلیپ کمار قبرستان پہنچے تو مدھو کی تدفین ہوچکی تھی اور یوں وہ ان کی شکل دیکھنے سے بھی محروم رہ گئے۔
یہ بات توطے ہوگئی کہ انسانی حُسن کے کرشموں کی حامل مدھو بالا نے اپنی زندگی اُمید و یاس کے دائرے میں رہتے ہوئے گزاری اورساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہوگیاکہ انسان شُہرت کی کسی بھی منزل پر پہنچ جائے یا دولت کے انبار اُس کے گرد جمع کردیئے جائیں توضروری نہیں کہ اُسے ہر وہ سُکھ حاصل ہوجائے جس کی وہ متمنّی رہی ہو۔مدھو کے ساتھ پیار کے معاملے میں جو ہوا وہی اس کی ایک سنگین مثال ہے۔اُن کی ذاتی زندگی کی تلخیوں کو ایک طرف رکھ کر اُن کی فنّی زندگی کا ایک جائزہ لینا ضروری ہے۔ایک اداکارہ کے طور پر انہوں نے بالی وُڈ پر جو مستقل اثرات چھوڑے ہیں اُن سے مفر مُمکن ہی نہیں اور ایک ایکٹریس کے لبادے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پرمدھو بالا نے جو مقام حاصل کیاان کی ہم عصر اداکارائوں کے لئے تو اُس کا خواب دیکھنا بھی شاید مُمکن نہ تھا۔مدھوبالا کی اداکاری کا جادو دُنیا بھر کے سینما دیکھنے والوں پر آج بھی طاری ہے۔ممتاز بیگم جہاں دہلوی جو فلمی دُنیا میں اُن کا ابتدائی نام تھاسے وہ مدھو بالا بنی ،وہ 14 فروری 1933ء کودہلی میں پیدا ہوئیں،وہ اپنے 11بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پر تھی۔ممتازجہاں کی حیثیت سے مدھو نے 9 سال کی عمر میں ہی فلموں میں کام شروع کردیا تاہم انہیں پہلا بڑا کردار 1942ء میں بننے والی فلم’’بسنت‘‘میں ملا۔اس کے بعد وہ وقفے وقفے سے چھوٹے چھوٹے کردار فلموں میں کرتی رہی۔اُن کی فنّی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ اُس وقت آیاجب راج کپور جیسے بڑے ایکٹر کے ساتھ انہیں فلم ’’نیل کمل‘‘ میں ہیروئن کے طور پر کاسٹ کیا گیا۔یہ فلم 1947ء میں بنی تھی۔ اس فلم کے بعد وہ ممتاز بیگم سے مدھو بالا بن گئی۔اس فلم میں کام کرتے وقت مدھو بالا صرف 14 برس کی تھیں مگر جس فلم نے مدھو کوعروج پر پہنچایا وہ تھی ’’بمبے ٹاکیز‘‘کی فلم ’’محل‘‘جو 1949ء میں بنی تھی،اس میں مدھو نے جوکردار کیااُس کے لئے پہلے معروف ایکٹریس ثریاکا انتخاب ہوچکا تھا۔فلمساز کمال امروہوی نے اس کردار کے لئے مدھو کے سکرین ٹیسٹ لئے اور اس کے بعدانہیں یہ کردار سونپ دیا۔’’محل‘‘فلم جس نے بھی دیکھی ہے اُسے ’’آئے گا آئے گا آئے گا آنیوالا آئے گا‘‘گانے کے ساتھ مدھو کی فلم میں انٹری ضرور یاد ہوگی۔کمال امروہوی تو خود اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے مدھو کو شادی کی پیش کش کردی مگر مدھو کو پہلی بیوی ہوتے ہوئے دوسری بیوی بننا قبول نہیں تھا۔اس فلم کی شاندار کامیابی کے بعد اسی سال انہوں نے ’’دلاری‘‘میں کام کیا جو بھی ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی۔1950ء میں بنی ’’بے قصور‘‘ اور اگلے سال دو بہت مقبول فلمیں بنیں جن میں دلیپ کمار کے ساتھ پہلی فلم ’’ترانہ‘‘ تھی جبکہ پریم ناتھ کی بنی فلم’’ بادل‘‘ بھی باکس آفس پر بہت کامیاب ثابت ہوئیں۔1950ء کی دہائی میں مدھو نے ہالی وُڈ میں بھی اپنے لئے جگہ بنالی تھی۔وہ ایک امریکی میگزین میں نمودار ہوئی جس نے انہیں دُنیا کی عظیم ترین فنکارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بیورلے ہل میں کیوں موجود نہیں۔

اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ اس درجہ کی اداکارہ کو تو ہالی وُڈ میں ہونا چاہئے۔ اکیڈیمی ایوارڈ یافتہ امریکی فلم ڈائریکٹر فرینک کیپرا،جو بھارت کے عالمی فلمی میلے میں شرکت کی غرض سے بمبئی آئے تھے،ان کا اصرارتھاکہ مدھو بالا ان کی فلم میں کام کرے لیکن یہاں بھی مدھو کے والدآڑے آئے اورانہوں نے دوٹوک الفاظ میں مدھوکو کسی ہالی وُڈ کی فلم میں کام کرنے سے منع کردیا۔مدھو بالا نے جن ہیروز کے ساتھ کام کیا ان میں اشوک کمار،راج کپور،رحمان، پردیپ کمار، شمی کپور، دلیپ کمار، سنیل دت اور دیوآنند قابل ذکر ہیں۔اپنے عہد کی جن بڑی اداکارائوں کے ساتھ مدھو بالا نے کام کیا ان میں کامنی کوشل،ثریا، گیتا بائی،نلنی جیورت، شیاما اور نمی شامل ہیں۔ جن بڑے ڈائریکٹروں کے ساتھ مدھو بالا نے کام کیا ان میں کمال امروہوی جن کی فلم’’محل‘‘بہت مقبول ہوئی تھی اور کے آصف جن کی فلم ’’مغل اعظم‘‘نے تو تہلکہ مچا دیا تھا،بہت ہی کم لوگوں کو یہ علم ہو گا کہ مدھو بالا نے1955ء میں فلم ’’ناطہ‘‘بحیثیت ایک فلمساز بنائی اور اس میں خود بھی اداکاری کی۔اس نے فلمساز کے طور پر دوسری فلم بنائی 1960ء میں جس کا نام تھا’’محلوں کے خواب‘‘اور اس میں انہوں نے خود بھی اداکاری کی تھی۔ تاہم یہ دونوں فلمیں باکس آفس پرکوئی بڑا تاثر قائم کرنے میں ناکام رہیں۔1950ء کی دہائی میں جو بھی فلم بنی اس میں نمایاں کردار کے لئے مدھو بالا کا نام فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا۔ یاد رہے کہ 1950ء میں فلم بنی تھی ’’ہنستے آنسو‘‘ جسے سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیٹس نے اے کیٹگری دی اورصرف بالغوں کے لئے نمائش کی اجازت دی تھی۔1955ء میں بنی ایک ایسی فلم جس میں مدھو بالا نے ایک بگڑی ہوئی دولت مند لڑکی کا کردار کیا تھا،یہ فلم تھی گرودت کے ساتھ ’’مسٹر اینڈ مسز 55‘‘۔اگلے سال 1956ء میں انہوں نے ’’شیریں فرہاد‘‘ اور ’’راج ہاتھ‘‘دو فلموں میں کام کیا جبکہ 1959ء میں نئی فلم ’’کل ہمارا ہے‘‘میں ڈبل رول کیا۔ 1954ء میں محبوب خان کی فلم ’’امر‘‘میں دلیپ کمار کے ساتھ کام کیا۔اس فلم کوخاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی تاہم مدھو بالا نے 1958ء اور 1960ء کے درمیان کامیاب فلموں کی ایک سیریز کی جن میں اشوک کمار کے ساتھ ’’ہاوڑہ برج‘‘جس میں مدھو نے ایک اینگلوانڈین کیبرے ڈانسر کا رول کیا جو کلکتہ چائنا ٹائون انڈر ورلڈ میں ملوث ہے۔ان کا فلم کے گانے ’’آئیے مہربان‘‘پر رقص آج بھی لوگوں کے دلوں کی دھڑکنیں تیزکردیتا ہے۔یہ گانا آشا بھوسلے نے گایا تھا۔پھر بنی فلم’’ پیغام‘‘جس میں مدھو کے مدمقابل تھا بھارت بھوشن، اس کے بعد دیوآنند کے ساتھ فلم ’’کالا پانی‘‘ بنائی۔ کشور کمار کے ساتھ ’’چلتی کا نام گاڑی‘‘ بہت مقبول ہوئی اور پھر آیا 1960ء جس میں انہوں نے بھارت بھوشن کے ساتھ کی ’’برسات کی رات‘‘ اور دوسری فلم ’’مغل اعظم‘‘ تھی جس میں تاریخ کے ایک تصوراتی کردار کو زندہ کرنے کا معرکہ بھی مدھو بالا نے سر کیا۔ انارکلی کے روپ میں مدھو نے کیا قیامت ڈھائی اس پر ناقدین آج بھی داد کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔’’مغل اعظم‘‘درحقیقت ایک بلیک اینڈوائٹ فلم تھی مگراس کے کچھ گانے رنگین فلمائے گئے تھے،انہی گانوں نے مدھوبالاکے حُسن کوچار چاندلگادئیے۔ایک دلچسپ اورتاریخی واقعہ یہ ہے کہ جب ’’مغل اعظم‘‘کا85فیصد کام ہوچکا تھا توکلر فلمیں بننے کی ٹیکنالوجی انڈیا میں آئی اورکے آصف نے مشہور گانا ’’جب پیار کیا تو ڈرنا کیا‘‘ کو رنگین فلم بند کیا تو کہنے لگے کہ میں دوبارہ ساری فلم کو رنگین بنائوں گا۔ مگر اس فلم کے پروڈیوسر شاہ پوری جی پلونجی نے ہاتھ کھڑے کر دئیے کیونکہ پہلے ہی ڈیڑھ کروڑ روپیہ وہ صرف کر چکے تھے اور نئے سرے سے فلمبندی کے لئے آمادہ نہ تھے۔ فلم کے تقسیم کار بھی مزید تاخیر کے حق میں نہ تھے جو پہلے ہی دس سال سے فلم کی ریلیز کا انتظار کر رہے تھے۔ فلم جب نمائش کے لئے پیش کی گئی تو فلمساز پلونجی کی تو چاندی ہوگئی اور انہیں اس وقت ’’مغل اعظم‘‘کو دوبارہ رنگین فلم بندی پر آمادہ نہ ہونے کادُکھ ہوا۔مگر اس فلم کے سیٹ پر جانے کے 69 سال اور اس کی ریلیز کے44 سال بعد فلمسازشاہ پورجی پلونجی کے بچّوں میں سے کسی ایک نے ،جو سٹرلنگ انویسٹمنٹ کارپوریشن کے مالک تھے،نے مزید 10 کروڑ روپے خرچ کرکے اس فلم کے 3 لاکھ فریموں کو دوبارہ رنگین بنوایا۔

دلیپ کمار نے اس پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا تھاکہ آصف صاحب تواپنی فلم کی کامیابی کے لئے1960ء میں پُراعتماد تھے لیکن رنگین’’مغل اعظم‘‘اس سے بھی زیادہ کامیاب ہوگئی۔دلیپ کہتے ہیں’’ابتداء میں وہ فلم میں سلیم کا کردار ادا کرنے پر آمادہ نہ تھے کیونکہ میں نے پہلے ایسا رول کبھی کیا نہیں تھا مگر کے آصف نے ضِد کی کہ یہ رول میں ہی کر سکتا ہوں،اسی طرح شاہ پورجی نے حوصلہ دیا،مجھے خوشی ہے کہ میں ان دونوں کی بات مان گیا کیونکہ ’’مغل اعظم‘‘صرف ایک فلم نہیں تھی بلکہ یہ کئی لحاظ سے اہمیّت کی حامل تھی۔رنگین ’’مغل اعظم‘‘کی ریلیز کے بعد فلمسٹار تبّو،جس نے یہ فلم پہلے دو مرتبہ بلیک اینڈ وائٹ دیکھی تھی،نے کہا’’میں اسے دوبارہ دیکھنے کے لئے انتظار نہیں کر سکتی‘‘۔رانی مکرجی نے کہا’’اس پورے عہد میں’’مغل اعظم‘‘کے معیار کے مقابلے میں صرف فلم ’’دیوداس‘‘کو رکھا جا سکتا ہے۔‘‘ آج کے دور کی وینس ایشوریا رائے کہتی ہیں’’ مدھو بالا کا حُسن دلکش ہی نہیں لافانی ہے۔‘‘مدھو بالا نے 1947ء اور 1964 کے درمیان 70 فلموں میں کام کیا جن میں سےزیادہ ترنے باکس آفس پر تاریخ رقم کردی۔