کورونا کے باعث مالی بحران، پولیس بھرتی میں رکاوٹ بن گیا

کورونا کے باعث مالی بحران، پولیس بھرتی میں رکاوٹ بن گیا

مال روڈ (عرفان ملک) کورونا وائرس کے وجہ سے صوبے کو شدید مالی بحران کا سامنا، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا پڑی، مالی بحران کی وجہ سے پولیس کی بھرتی میں بھی کمی کر دی گئی۔

کورونا وائرس کے باعث مالی بحران پولیس بھرتی میں بھی رکاوٹ بن گیا، آئی جی پنجاب نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو درخواست کی تھی کہ اضلاع کے ساتھ ساتھ مختلف یونٹس میں بھی بھرتیاں کرنے کی ضرورت ہے، درخواست پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی جانب سے صوبہ بھر میں 10ہزار کانسٹیبلز بھرتی کرنے کی منظوری دی گئی تھی، فنانس ڈیپارٹمنٹ نے 10 ہزار بھرتی کے وسائل نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ کو رپورٹ بھجوا دی، ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بھی دس ہزار کی بجائے5530 بھرتیوں کی تجویز دی گئی۔

  وزیر اعلیٰ پنجاب نے اب پولیس کے لیے پانچ ہزار تین سو تیس اہلکار بھرتی کرنے کی منظوری دی ہے، جلد ہی پولیس میں بھرتی کاعمل شروع کردیا جائے گا۔

 دوسری جانب حکومت پنجاب نے7 پولیس افسروں کی خدمات وفاق کودینے سے انکار کر دیا، حکومت پنجاب نے ایس ایس پی نقیب الرحمان اورایس ایس پی حسن اسدعلوی کی خدمات وفاق کے حوالے کرنے سے انکار کیا، ایس ایس پی محمد اشفاق عالم،ایس ایس پی عمر سعید ملک، ایس ایس پی شعیب اشرف، احسن سیف اللہ اورآصف نذیر کی خدمات بھی وفاق کے سپرد نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ پنجاب میں پولیس افسران کی پہلے ہی کمی ہے، مذکورہ افسروں کی خدمات وفاق کو دینے سے صوبے میں انتظامی امور متاثر ہوں گے۔

علاوہ ازیں رواں سال بھی پنجاب پولیس کی یونیفارم کی خریداری کامعاملہ کھٹائی میں پڑگیا، پنجاب پولیس نےاڑھائی لاکھ کےقریب اولیوگرین یونیفارم خریدنا تھی، پری کوالیفائی کمپنیوں کی جانب سےتاحال سیمپل نہیں منگوائےجاسکے۔

گزشتہ سال بھی بروقت اقدامات نہ ہونےسےنئی یونیفارم نہیں خریدی جاسکی تھی، پری کوالیفائی کرنےوالی کمپنیوں کےپہلےسیمپل لیب نےمستردکردیئے تھے۔