ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  پاکستان کی ممتاز سماجی شخصیت منیزہ بصیرانتقال کرگئیں

Maneeza Basir, Nazia Hassan, Zohaib Hassan, Pop singer Nazia, Baseer Hassan, Pakistani vintage personality
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پاکستان کی ممتاز سماجی شخصیت منیزہ بصیرانتقال کرگئیں۔

منیزہ بصیر، بزنس مین بصیر احمد کی بیوی، گلوکار زوہین حسن اور گلوکارہ نازیہ حسن کی والدہ تھیں۔ ان کی اپنی ہستی بھی اپنی مثال آپ تھی۔
 مسز منیزہ بصیر حسن کے انتقال کی خبر ان کے بیٹے گلوکار زوہیب حسن نے سوشل میڈیا پر شیئر کی۔

منیزہ بصیر  خود ایک متحرک سماجی کارکن تھیں۔ ان کی شہرت کی وجہ ان کے دونوں بچوں نازیہ حسن اور  زوہیب حسن کا پاکستان اور انڈیا میں جدید طرز کی گائیکی میں بہت زیادہ مشہور ہو کر سٹار بن جانا تھا۔ وہ دو سٹارز کی ماں ہونے کے باوجود عمر بھر بے حد سادہ سماجی کارکن ہی رہیں۔

زوہیب حسن نے انسٹاگرام پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اپنے چاہنے والوں کو والدہ کے انتقال سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں اپنی والدہ کے ہمراہ تصاویر پر مشتمل ویڈیو کلپ شیئر کی اور لکھا کہ میری ماں، میری محبت اور میری رہنما انتقال کر گئیں۔

 والدہ منیزہ حسن کافی عرصے سے علیل تھیں، وہ  ڈیمنشیا کی مریض تھیں۔ ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے چند برس قبل زوہیب حسن بیرون ملک رہائش چھوڑ کر پاکستان واپس آگئے تھے۔ منیزہ کے شوہر بصیر حسن مئی 2020 میں انتقال کر گئے تھ۔

ان کی بیتی نازیہ حسن سنہ 2000 میں جوانی میں کینسر کے  سبب فوت ہو گئی تھیں۔ 

افسانوی شہرت کی حامل نازیہ حسن کوبجاطورپربرصغیر میں پوپ میوزک کی پہلی سٹار  اورپاکستان میں پوپ میوزک کی پرنسس کی حیثیت حاصل رہی۔  انہوں نے غیر معمولی شہرت حاصل کی اور لاکھوں دلوں پر راج کیا  لیکن نازیہ حسن نے اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ ہمیشہ اپنی والدہ کو دیا۔

منیزہ بصیر کی شخصیت

منیزہ کی شخصیت بہت زیادہ مشہور بچوں کی والدہ ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ لائم لائٹ میں رہی لیکن  وہ اپنے مسلسل سماجی کام / انسان دوستی  کی بنیاد پر کئے گئے کاموں کو میڈیا کی نظر سے بچا کر کرتی رہیں۔ منیزہ بصیر کے احباب انہیں دو سٹار بچوں کی والدہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ان کی اپنی بے لوث، دلربا شخصیت اور  ایک " ہمیشہ فعال سماجی کارکن" کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

Caption  ماضی کے سب سے بڑے سوشل میگزین ہیرالڈ کے سر ورق پر منیزہ بصیر کی فوٹو

منیزہ بصیر کے سماجی کام
نازیہ کی موت کے بعد،  میزہ بصیر اپنی بیٹی کی خیراتی ہدایات میں سے کچھ کاموں کو جاری رکھنے میں شامل تھیں۔ مثال کے طور پر، انہوں نے نازیہ کے نام پر ایک اسکول شروع کرنے کی بات کی ہے، خاص طور پر کراچی میں کام کرنے والے بچوں /  سٹریٹ چلڈرن کے لیے۔ منزہ بصیر نے اپنے مشہور بچوں کے مقابلے میں نسبتاً نجی زندگی گزاری ہے۔

3 اپریل 1965ء کو کراچی میں پیدا ہونے والی نازیہ حسن کا پہلاالبم ”ڈسکو دیوانے“ 1981 میں آیا جس نے ریلیز کے ساتھ ہی ہر طرف دھوم مچادی اور ان کی شُہرت آسمان کو چھونے لگی۔”ٹائم“میگزین نے انہیں اس وقت کی پچاس بااثرشخصیات کی فہرست میں شامل کیاتھا جنہوں نے پاک وہند کی نوجوان نسل کے مزاج پر گہرا اثر ڈالا،بھائی زوہیب حسن کے ساتھ مل کرنازیہ حسن نے 1982ء میں بوم بوم،1986ء میں ینگ ترنگ،1987ء میں ہاٹ لائن اور1992ء میں کیمرا کیمرا البم ریلیزکئے،دونوں بہن بھائیوں کے گانے نائنٹی ایٹیز اور نائینٹیز کے دوران اکثریت کی زبان پر تھے۔