ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سلامتی کونسل میں خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی خاتون کون؟ وزیر دفاع کے بیان پر وزارت خارجہ کی وضاحت

سلامتی کونسل میں خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی خاتون کون؟ وزیر دفاع کے بیان پر وزارت خارجہ کی وضاحت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک :  وزیر دفاع خواجہ آصف نے سلامتی کونسل میں تقریر کے دوران اپنے پیچھے بیٹھی خاتون کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ خاتون کون ہیں اور ان کے پیچھے کیسے بیٹھیں، یہ وزارت خارجہ کی ذمہ داری ہے اس لیے مناسب ہے کہ اس معاملے کا جواب وہی دیں۔ 

 سوشل میڈیا پر وزیر دفاع خواجہ آصف کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تقریر کے دوران کی ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں ان کے پیچھے ایک خاتون کو بھی بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔

 اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں متعلقہ خاتون کی پاکستانی وفد کے ساتھ موجودگی اور پھر خواجہ آصف کے پیچھے براجمان ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

 سوشل میڈیا پر برپا ہونے والے طوفان پر خواجہ آصف بھی خاموش نہ رہے اور ایکس اکاؤنٹ پر ایک تفصیلی پوسٹ لکھ کر  وائرل ہونے والی تصویر سے متعلق وضاحت پیش کی۔ 

 خواجہ آصف نے  اپنی پوسٹ میں لکھا وزیراعظم مصروف تھے اس لیے ان کی جگہ میں نے سلامتی کونسل میں یہ تقریر کی تھی، یہ خاتون یا کس نے میرے پیچھے بیٹھنا ہے دفتر خارجہ کی صوابدید و اختیار تھا اور ہے، فلسطین کے مسئلے کے ساتھ میرا 60 سال سے جذباتی لگاؤ اور کمٹمنٹ ہے۔

 وزیر دفاع نے لکھا ابو ظبی بینک میں ملازمت کے دوران فلسطینی دوست اور کولیگ بنے اور آج بھی ان کے ساتھ رابطہ ہے، غزہ سے متعلق میرے خیالات واضح ہیں اور میں ان کا برملا اظہار کرتا ہوں۔

 انہوں نے مزید لکھا اسرائیل اور صیہونیت پر میرے خیالات نفرت کے سوا اور کچھ نہیں، یہ خاتون کون ہیں اور وفد میں ہمارے ساتھ کیوں ہیں اور ان کو میرے پیچھے کیوں بٹھایا گیا، ان سوالوں کا جواب دفتر خارجہ ہی دے سکتا ہے۔

 خواجہ آصف نے مزید لکھا کہ میرے لیے مناسب نہیں کہ ان کی (دفتر خارجہ) جانب سے جواب دوں، میرا ٹوئٹر اکاؤنٹ کی ہسٹری اس بات کی شہادت ہے کہ میرا فلسطین کے ساتھ رشتہ ایمان کہ حصہ ہے۔

دوسری جانب وزارت خارجہ نے خواجہ آصف کی ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا سلامتی کونسل میں وزیر دفاع کی تقریر کے دوران ان کے پیچھے بیٹھی خاتون کے حوالے سے مختلف چیزیں سامنے  آ رہی ہیں۔

 وزارت خارجہ نے لکھا یہ واضح ہے کہ متعلقہ شخصیت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے لیے پاکستان کے اس آفیشل وفد کا حصہ نہیں ہے جسے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے منظور کیا اور نا ہی وزیر دفاع کی تقریر کے دوران متعلقہ خاتون کو  وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھنے کی منظوری وزیر دفاع نے دی تھی۔