سٹی42: صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے قریب بیٹھ گئی۔اس وقت خیبر پختونخوا کے چار کروڑ شہری عملاً اللہ کے سپرد ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اتنے فارغ ہیں کہ اڈیالہ جیل کی سڑک پر دھرنا دے کر بیتھ گئے۔ ان کی ضد ہے کہ ان کی اڈیالہ جیل مین قید کی سزا کاٹ رہے پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات کروائی جائے۔ سہیل آفریدی کے پشاور چھوڑ کر راولپنڈی کی جیل والی سڑک پر بیٹھ جانے سے سنگین مسائل مین پھنسی ہوئی خیبر پختونخوا حکومت کے درجنوں کام رک گئے لیکن وہ مزے سے دھرنا دے کر بیتھے ہوئے ہیں۔ اس دھرنے سے راولپنڈی مین اڈیالہ جیل کی قریبی آبادیوں کے مکینوں کو شدید تکلیف ہو رہی ہے جن کے آنے جانے کے راستے پر رکاوٹ آ گئی ہے، باقی کسی کو کوئی مسئلہ نہیں۔
اس سے پہلے بانی کی بہنیں بھی کئی مرتبہ اس پولیس چیک پوسٹ پر کچھ گھنٹوں کے لئے دھرنے دیتی رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی، رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک اور صوبائی وزیر مینا خان، شفیع جان، شوکت یوسفزئی آج دوپہر کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرنے کیلئے اڈیالہ جیل والی سڑک پر بنی پولیس چیک پوسٹ پر پہنچے تو انہیں اسی وقت بتا دیا گیا تھا کہ انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے پہلے پولیس چیک پوسٹ پر ڈیوٹی کرنے والے انسپکٹر کو دھمکیاں دیں پھر وہاں دھرنا دے کر بیتھ گئے۔
سہیل آفریدی نے موقع پر موجود پولیس افسران سے ناراض ہوتے ہوئے کہا، میں ایک صوبے کے ساڑھے چار کروڑ عوام کا نمائندہ ہوں، آٹھویں مرتبہ جیل آ رہا ہوں مجھے بانی سے کیوں نہیں ملنے دیا جا رہا۔ ایک صوبے کی تذلیل کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ اگر ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا سلوک کریں تو کیسا لگے گا، ملاقات کے لیے آیا ہوں یہیں بیٹھوں گا۔ آخری خبر یہی ہے کہ خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ اب بھی گورکھ پور پولیس چیک پوسٹ پر بیتھا ہے۔ اس کے ساتھ بہت تھوڑے سے لوگ ہیں۔ پولیس کسی کو کچھ نہیں کہہ رہی۔