سٹی42: بابری مسجد کا سنگِ بنیاد کب رکھا جائے گا، کون رکھے گا، تفاصیل سامنے آگئیں۔
مغربی بنگال کی حکمران پارٹی ترنمول کانگرس کے رکن اسمبلی ہمایوں کبیر نے اعلان کیا ہے کہ 6 دسمبر کو مرشد آباد کے بیلڈانگا میں بابری مسجد کی بنیاد رکھی جائے گی۔ وہاں ایک اسٹیج ہوگا، جس پر 400 لوگ بیٹھ سکتے ہیں۔ اسٹیج کہاں ہوگا، یہ میں آپ کو 4 دسمبر کو بتاؤں گا۔
بھارتی میڈیا نے آج رپورٹ کیا ہے کہ مغربی بنگال کے ترنمول رکن اسمبلی ہمایوں کبیر ریاست میں 6 دسمبر کو بابری مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے پرعزم نظر آ رہے ہیں۔ بھرت پور سے ترنمول کانگریس کے رکن اسمبلی ہمایوں نے اعلان کیا ہے کہ 6 دسمبر کو مرشد آباد کے بیلڈانگا میں بابری مسجد کی بنیاد رکھی جائے گی۔ وہاں ایک اسٹیج ہوگا جس پر 400 لوگ بیٹھ سکتے ہیں۔ رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ اسٹیج کہاں ہوگا، یہ میں آپ کو 4 دسمبر کو بتاؤں گا۔
ہمایوں کبیر نے یہ تہلکہ آرا اعلان ایکس پر ایک پوسٹ میں کیا ہے جو فوراً ہی ہر طرف وائرل ہو گئی ہے۔
ہمایوں کبیر نے بتایا کہ ابھی یہ طے نہیں ہوا ہے کہ بیلڈانگا میں زمین کے کس حصہ پر بابری مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔
بعض فساد پسند بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹس یہ افواہ پھیلا رہی ہیں کہ ہمایوں کبیر جس زمین پر بابری مسجد بنانا چاہ رہے ہیں وہ زمین متنازعہ ہے۔ یہ شور مچایا جا رہا ہے کہ زمین ہمایوں کبیر کی نہیں ہے۔ پھر کس طرح سنگ بنیاد رکھنے کا فیصلہ لیا گیا۔
اس بارے میں ہمایوں کبیر نے کہا ہے کہ ’’مجھے نہیں پتہ کہ زمین کس نے دی اور کس نے نہیں؟‘‘ انھوں فساد پھیلانے والے میڈیا سے یہ سوال بھی کیا کہ ’’آپ کو کس نے بتایا کہ جس زمین پر تنازعہ ہو رہا ہے، اس پر ہی بابری مسجد بن رہی ہے۔‘‘
ہمایوں کبیر نے یہ کہہ کر جلنے والوں کو مزید جلا دیا کہ ’’میرے پاس ایک نہیں، چھی (6) زمینیں تیار ہیں۔ میں نے کوئی زمین نہیں دیکھی ہے اور نہ کسی کو بتایا ہے۔ اگر کوئی میرا سر کاٹنے آئے گا تو اس کے لیے صحیح انتظام کیا جائے گا۔‘‘
اعتدال پسند نیوز آؤٹ لیٹ قومی آواز نے اپنی رپورٹ میں لکھا، "دراصل بی جے پی اور کچھ ہندوتوا تنظیمیں ہمایوں کبیر کے اعلان سے سخت ناراض ہیں۔ ہندو مہاسبھا نے تو مبینہ طور پر ایک قبر بھی کھود رکھی ہے اور ہمایوں کو زندہ یا مردہ لانے پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔"
بابری مسجد
بابری مسجد ہندوستان کے ایودھیا میں 16ویں صدی کی ایک مسجد تھی جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دیرینہ مذہبی تنازعہ کا مرکز تھی۔ اسے 6 دسمبر 1992 کو راشٹریہ سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندوتوا پرست کارکنوں کے ایک گروپ نے منہدم کر دیا تھا۔اس تاریخی مسجد کو شہید کرنے کے اہم سماجی اور سیاسی نتائج برآمد ہوئے جو اب تک جاری ہیں۔
انتہا پسند ہندوتوا پرستوں کا کسی تاریخی ثبوت کے بغیر یہ دعویٰ ہے کہ یہ جگہ ان کے بھگوان کے اوتار رام کی جائے پیدائش ہے، جبکہ تاریخی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ یہ مسجد مغل کمانڈر میر باقی نے 1528 میں بنائی تھی۔
تاریخی بابری مسجد کو شہید کرنے کے واقعہ کے 17 سال بعد ، 2019 میں سپریم کورٹ آف انڈیا ک نے انصاف کے طلبگاروں کو بری طرح مایوس کرتے ہوئے یہ گول مول سا فیصلہ دیا کہ بابری مسجد کو شہید کئے جانے کو جسٹی فائی کر ڈالا اور مسجد والی جگہ انتہا پسند ہندوؤں کو مندر کے لیے دے دی، جب کہ مسجد کے لیے الگ جگہ فراہم کی گئی۔ اس نام نہاد فیصلہ کا عملاً کوئی نتیجہ نہیں نکلا، بابر مسجد اب بھی نہیں بنی۔
تاریخ اور تنازعہ
بابری مسجد مغل شہنشاہ بابر کے ماتحت ایک کمانڈر میر باقی نے 1528 میں بنوائی تھی۔
زمین کو کچھ ہندوؤں نے رام کی جائے پیدائش قرار دے کر پروپیگنڈا کرنا شروع کر دیا کہ مندر کو گرا کر مسجد بنائی گئی۔ صرف اس مسجد پر ہی نہیں بلکہ درجنوں دوسری مسجدوں پر یہ لیبل لگایا گیا کہ یہ دراصل پرانے مندوروں کو گرا کر بنائی گئیں۔ ایسے کسی دعوے کا کبھی کوئی ثبوت نہیں لایا گیا۔
بھگوان کے اوتار رام جی کب کہاں پیدا ہوئے، کہاں رہے، ان سب سوالات پر تاریخ مکمل خاموش ہے، اس کے باوجود ہندوتوا پرستوں نے مسلسل پروپیگنڈٓ کر کے یہ بات اپنے پیروکاروں کے ذہنوں میں راسخ کر دی کہ ایودھیا ہی رام جی کی جائے پیدائش ہے اور وہ عین اسی جگہ پیدا ہوئے تھے جہاں بابری مسجد کھڑی ہے۔ رام جنم بھومی کے جذباتی کر دینے والے خیال کو لے کر مسلسل پروپیگنڈا کیا جاتا رہا حتیٰ کہ مسجد ہو شہید کر دیا گیا اور اب اس کی جگہ پر مندر تعمیر کرنے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے بہت بڑا اجتماع ایودھیا میں کیا جس میں نریندر مودی خود وہاں موجود رہے۔
بابری مسجد پر ابتدائی تنازعات نوآبادیاتی دور میں انگریز کی حکومت میں ہی سامنے آئے اور اسی زمانے میں شدت اختیار کر گئے، یہاں تک کہ برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے دعویٰ کرنے والوں کے دعووں سے نامطمیہن ہونے کے باوجود مسجد کے بیرونی صحن کو ہندو انتہا پسندوں کے ھوالے کرنے کے لئے تقسیم کی باڑ لگوا دی۔ مسجد کا اندرونی حصہ اور کنٹرول مسلم کمیونٹی کے پاس رہا۔ یہ انتظام 1992 تک رہا۔
تنازعہ 1992 میں اس وقت عروج پر پہنچا جب ہندوتوا پرست تنظیموں نے کونے کونے سے لوگ اکٹھے کر کے ہلغار کی اور عدالتوں کے امتناعی احکامات کو روند کر مسجد کو شہید کر دیا۔6 دسمبر 1992: ہندو قوم پرست گروپوں کی طرف سے نکالی گئی ریلی ایک ہجوم میں تبدیل ہو گئی اور انہوں نے مسجد کو منہدم کر دیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ کمزور مسلمان کمیونٹی نے جھگڑنے کی بجائے قانونی کارروائی کی۔ مسماری کے بعد اس جگہ کی ملکیت پر کئی دہائیوں کی قانونی لڑائی ہوئی۔
سپریم کورٹ کا کمزور فیصلہ
نومبر 2019 میں، سپریم کورٹ آف انڈیا نے ہندوؤں کو مندر بنانے کے لیے پوری متنازعہ جگہ دینے کا حکم دیا، اور ایودھیا میں ایک نئی مسجد کے لیے علیحدہ پانچ ایکڑ کا پلاٹ الاٹ کیا۔
چونکہ ایودھیا میں بابری مسجد ابھی تک دوبارہ تعمیر نہیں کی گئی، اس لئے مغربی بنگال کے سیاستدان ہمایوں کبیر نے مرشد آباد کے ایک علاقے مین بابری مسجد کے نام سے مسجد تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہندوتوا پرست اصل بابری مسجد کے مقبوضہ مقام سے ہزاروں کلومیٹر دور اس بابری مسجد کی تعمیر کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔