ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عید 30 مارچ کو بھی ہو سکتی ہے

Eid day controversy, Eid Alfitar۲۰۲۵, city42, Saudi Arabia Eid day, Pakistan Eid day, Lunar Calendars
کیپشن: ہفتہ  28 مارچ کو  رمضان کے 29 دن مکمل ہو جائیں گے اور قمری مہینہ یا  29 دن کا ہوتا ہے یا  30 دن کا، سعودی عرب میں  29 روزے مکمل ہونے کے بعد اگر چاند نظر آ گیا اور سرکاری روئیت کمیٹی نے اس چاند کو دیکھے جانے کی شہادت/ تصویر کا ثبوت  کو قبول کر لیا تو  30 مارچ سعودی عرب میں عید کا دن ہو گا۔ سعودی عرب کی پیروی کرنے والے ملک بھی  30 مارچ کو عید کر لیں گے۔۔۔۔ لیکن پاکستان میں ایسا ہونا خٓرج از امکان ہے اس لئے کہ جب  سعودی عرب میں پہلا روزہ افطار کیا جا چکا تھا تو اس وقت  پاکستان کے عملا چاند تلاش کر رہے تھے،  29 مارچ کو خواہ ساری دنیا میں چاند دیکھ لیا جائے پاکستان میں یہ "نظر نہیں آئے گا" کیونکہ عملا کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے اس روز پاکستان میں  28 واں روزہ افطار ہو گا۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

وسیم عظمت:  عید عام قیاس آڑائیوں کے برعکس  30 مارچ کو ہو سکتی ہے۔ انتیس مارچ کو رمضان کے مہینے کے 29 دن پورے ہو جائیں گے۔ قمری مہینہ  29 دن کا بھی ہوتا ہے اور  30 دن کا بھی ہو سکتا ہے۔ اگر29 مارچ کو  کسی نے چاند دیکھ کر  اس کی تصویر بنا لی تو قوی امکان ہے کہ عید   کا چاند دیکھنے کا اعلان ہو جائے اور عید 30 مارچ کو ہو جائے۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی عید الفطر 2025 کے چاند کی رویت پر تنازعہ ہو رہا ہے۔ ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ 29 مارچ  کو ہفتہ کی شام  چاند  کا دیکھا جانا بظاہر بعید از امکان ہو گا۔، مگر سعودی عرب شاید پھر بھی عید 30 مارچ بروز اتوار کو منانے کا اعلان کر دے۔ 

قطر کیلنڈر ہاؤس اور برطانیہ کے ناٹیکل المانک آفس کے مطابق 29 مارچ کو سعودی عرب اور برطانیہ میں چاند کا نظر آنا ممکن نہیں، چاہے جدید ترین دوربینیں ہی کیوں نہ استعمال کی جائیں۔ تاہم سعودی رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے کے پیشِ نظر کئی مسلم ممالک عید کا اعلان سعودی عرب کے ساتھ کریں گے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب سعودی عرب کے چاند دیکھنے کے دعووں پر سوالات اٹھے ہیں۔ 2023 میں کویتی ماہرِ فلکیات عادل السعدون نے چیلنج کیا تھا کہ اگر کسی نے چاند دیکھا ہے تو اس کی تصویر بطور ثبوت پیش کی جائے۔ اسی طرح 2024 میں بھی حج کے چاند پر اختلاف ہوا اور کئی ممالک نے سعودی اعلان کو مسترد کر دیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں Umm al-Qura کیلنڈر پر پہلے سے عید کی تاریخ طے ہوتی ہے، جس پر فیصلہ اکثر فلکیاتی شواہد کے برعکس لیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی طریقہ کار ترکی بھی اپناتا ہے، مگر وہ واضح طور پر حسابات کے مطابق عید کا اعلان کرتے ہیں، بغیر یہ کہے کہ چاند دیکھا گیا ہے۔

برطانیہ میں مسلم کمیونٹی عموماً سعودی عرب کی پیروی کرتی ہے، مگر بہت سے لوگ اب انگلینڈ میں چاند دیکھنے کے بعد عید کرنے  پر اصرار کر رہے ہیں۔ نیو کریسنٹ سوسائٹی کے بانی عماد احمد کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں چاند دیکھنے کی روایت  ہونا چاہیے۔

سعودی عرب کی  حکومت نے ہمیشہ ان الزامات پر خاموشی اختیار کی ہے کہ وہ سائنسی طور پر ناممکن چاند  کو بھی دیکھنے کا اعلان کر دیتی ہے۔ تاہم، اگر اس بار سعودی رویتِ ہلال کمیٹی نے 29 روزے ہونے کے بعد ہفتے کی شام چاند نظر آ جانے پر چاند نظر آنے یا چاند نظر نہ آنے کی صورت میں چاند نظر نہ آنے کا اعلان کیا، تو یہ پالیسی میں  تبدیلی کا عکاس ہو گا۔یہ  آئندہ کے لیے ایک نئی مثال قائم کر سکتی ہے۔