سٹی 42 : ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ 26 فروری کی رات طالبان رجیم کی بلاجواز اور اشتعال انگیز کارروائیوں کے بعد پاکستان نے مؤثر جواب دیا، پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر مناسب اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے فِتنہ الخوارج اور فِتنہ ہندوستان کے پاکستان پر بار بار دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 26 فروری کی رات طالبان رجیم کی بلاجواز اور اشتعال انگیز کارروائیوں کے بعد پاکستان نے مؤثر جواب دیا، بہادر دفاعی افواج نے درست اور ہدفی آپریشنز کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کو بھاری نقصان پہنچایا، افغانستان میں دہشت گردوں کے لاجسٹک سپورٹ بیسز کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے یہ اقدامات اپنے حقِ دفاع کے تحت اور شہریوں و خطے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے کیے، طالبان رجیم کی مزید اشتعال انگیزی یا کسی بھی دہشت گرد گروہ کی کارروائی کا نپا تلا، فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا، پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، پاکستان افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سفارتی و سیاسی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے خیرسگالی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو غلط سمجھا گیا، اس کے نتیجے میں افغان سرزمین سے حملوں میں اضافہ ہوا ۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ طالبان رجیم اور بھارت کی فعال معاونت و پشت پناہی سے دہشت گرد حملے بڑھنے پر شدید تشویش ہے۔ پاکستان افغانستان سے جاری دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ افغان رجیم فِتنہ الخوارج اور فِتنہ ہندوستان کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات یقینی بنائے اور انہیں دی جانے والی معاونت ختم کرے۔
ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری طالبان رجیم کو واضح پیغام دے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اپنے وعدوں سے روگردانی نہ کرے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر مناسب اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔