ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جیب خرچ کی جمع شدہ رقم خرچ کرنے پر 10 سالہ بچے نے والد کے خلاف مقدمہ جیت لیا

جیب خرچ کی جمع شدہ رقم خرچ کرنے پر 10 سالہ بچے نے والد کے خلاف مقدمہ جیت لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : چین میں ایک 10 سالہ بچے نے جیب خرچ کی جمع شدہ رقم لینے پر اپنے والد کے خلاف دائر مقدمہ جیت لیا۔

چینی صوبے ہینان سے علاقے زینگ زو سے تعلق رکھنے والے 10 سالہ بچے کی 80 ہزار یوآن سے زائد (32 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) رقم کو والد نے لے لیا تھا۔

اس بچے نے کئی برس کے دوران چینی نئے سال کے تہواروں کے موقع پر گھر والوں سے ملنے والی رقم کو جمع کیا تھا۔

اس کے والد کی طلاق ہوچکی ہے اور اس نے دوسری شادی کے لیے بیٹے کی رقم کو چپکے سے لے لیا۔

شیاوہی نامی بچہ والدین کی طلاق کے بعد سے 2 سال سے والد کے ساتھ مقیم تھا اور گزشتہ چند برسوں کے دوران اس نے نئے سال کے موقع پر ملنے والی رقم کو جمع کیا۔

اس نے 80 ہزار یوآن سے زائد رقم جمع کرلی تھی اور اسے ایک بینک اکاؤنٹ میں جمع کرایا تھا جو اس کے والد نے کھلوایا تھا۔

بعد ازاں جب والد نے دوسری شادی کی تو بچے کو ماں کے پاس رہنے کے لیے بھیج دیا۔ماں نے دریافت کیا کہ بیٹے کی مرضی کے بغیر باپ نے 82 ہزار 750 یوآن بینک سے نکلوا لیے اور اسے دوسری شادی کے اخراجات کے لیے استعمال کیا۔

جب بیٹے نے باپ سے رقم واپس کرنے کا کہا تو اس نے انکار کر دیا جس پر بیٹے نے والد کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔با پ کی جانب سے یہ کہا گیا کہ یہ مقدمہ شیاوہی کی ماں نے درج کرایا ہے اور عدالتی سماعت شروع ہوگئی۔

عدالت نے تعین کیا کہ یہ رقم قانونی طور پر شیاوہی کی تھی اور اسے بلا اجازت نکال کر خرچ کرنے پر والد نے بچے کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔

عدالت نے اپ کو پوری رقم سود کے ساتھ جمع کرانے کا حکم سنایا ہے۔