ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مصطفیٰ قتل کیس؛ ملزم ارمغان کا مزید جسمانی ریمانڈ، جے آئی ٹی کی تشکیل

Mustafa Murder Case, city42 , Accused Armaghan , Karachi court
کیپشن: Crime scene, File Photo
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  صوبائی دارالحکومت کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس میں مرکزی ملزمان ارمغان اور شیراز کو مزید پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے پولیس کو ملزم ارمغان کا میڈیکل چیک اپ کروانے کا حکم دیا ہے۔ 
جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران جب ملزم ارمغان کو عدالت میں لایا گیا تو ااس کے با اثر باپ اور پھر والدہ نے ملاقات کی۔ ارمغان کی والدہ نے اپنے بیٹےسے  کہا کہ وہ ان (والدہ) کے وکیل کے وکالت نامے پر دستخط کر دے جبکہ تھوڑی دیر کے بعد ملزم کے والد نے انھیں اُن (باپ) کے نامزد کردہ وکیل کے وکالت نامے پر دستخط کرنے کی ہدایت کی۔
جب عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو اسی بنیاد پر بحث کا آغاز ہوا کہ کس کے وکالت نامے پر دستخط کیے جائیں۔ اس پر عدالت نے ملزم سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ ملزم ارمغان نے کہا کہ کیا والد اور والدہ دونوں کی جانب سے نامزد کردہ وکلا کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔
جج کا کہنا تھا کہ سندھ بار کونسل کے رولز دیکھ لیں اور ان کے تحت کیا یہ ممکن ہے، اس پر ملزم نے کہا کہ وہ والد کے نامزد کردہ وکیل کو قبول کرتے ہیں۔

کراچی کے رہائشی 23 سالہ مصطفیٰ عامر رواں برس کے آغاز پر چھ جنوری کو کراچی کے علاقے ڈیفنس سے لاپتہ ہوئے تھے اور پولیس کے مطابق اُن کی جھلسی ہوئی لاش بلوچستان میں حب کے علاقے دہریجی سے ملی تھی۔ مصطفی کواغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

 اس واقعے کے بعد پولیس نے ملزمان ارمغان اور شیراز کو گرفتار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس کیس میں مرکزی ملزم ہیں۔
 سی آئی اے کے ڈی آئی جی مقدس حیدر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ارمغان کے ساتھی شیراز کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے ذریعے معلوم ہوا کہ مصطفیٰ پر تشدد کیا گیا اور اس کے بعد ان کو اُن کی ہی گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر بلوچستان کے علاقے دہریجی لے جایا گیا اور گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔
ابتدا میں ایدھی نے مصطفی کی لاش کو لاوراث قرار دے کر دفنا دیا تھا اور بعدازاں قبرکشائی اور ڈی این اے کی رپورٹ کی بنیاد پر ان کی باقیات ان کی والدہ کو واپس کی گئیں۔
 جمعرات کو دوران سماعت ملزم ارمغان کے وکیل عابد زماں نے کہا کہ جب ارمغان کے گھر پولیس مقابلہ ہوا تو اس وقت موقع پر اُن کی والدہ بھی موجود تھی مگر پولیس نے ان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔
ملزم کی والدہ نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو پولیس کے سامنے سرینڈر کیا تھا۔
ملزم کے وکیل نے استدعا کی کہ پولیس کو حکم دیا جائے کہ وہ عدالت کو آگاہ کریں کہ پچھلے دو دنوں میں انھوں نے کیا تحقیقات کی ہیں۔ اس موقع پر اس کیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے کی تفتیش کے لیے جے آئی ٹی بنائی گئی ہے اور اس کے علاوہ ایک لڑکی کو بھی ٹریس کیا ہے جس کا ڈی این اے ملزم ارمغان کے گھر سے ملا تھا۔
سماعت کے دوران ارمغان کے وکیل نے عدالت سے گذارش کی کہ اس کی ملاقات وکیلوں اورر والدین سے کروائی جائے جس پر جج نے کمرہ عدالت میں ملاقات کروانے کا حکم جاری کر دیا۔
دوران سماعت سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے جس میں قتل کیا گیا ، مقتول کو جلایا گیا۔ اس موقع پر ملزم ارمغان نے عدالت کو بتایا کہ وہ اذیت میں ہیں اور انھیں گذشتہ دس روز سے واش روم جانے نہیں دیا گیا۔ اس پر عدالت جج نے سوال کیا کہ کیا یہ ممکن ہے۔