ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مصطفیٰ عامر قتل کیس؛ معاشرے نے ہمیں پہلے ہی مجرم سمجھ لیا، ساجد حسن

مصطفیٰ عامر قتل کیس؛ معاشرے نے ہمیں پہلے ہی مجرم سمجھ لیا، ساجد حسن
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:  اداکار ساجد حسن نے اپنے قتل اور منشیات فروشی کے مقدمات مین ملوث  بیٹے ساحر حسن کے حوالے سے میڈیا سے بات کی ہے۔

ساجد حسن کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو پہلے ہی مجرم سمجھ لیا گیا ہے، ابھی تک کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔

ساجد حسن نے کہا کہ مصطفیٰ عامر کا قتل المناک واقعہ ہے، اور مصطفیٰ کی والدہ کا ویڈیو پیغام سن کر وہ سو نہیں سکے۔مصطفیٰ بھی ان کے بیٹے جیسا تھا، اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کیس کا منصفانہ ٹرائل ہو تاکہ اصل مجرموں کو سزا مل سکے۔

ساحر حسن کو مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ساتھ ساتھ منشیات کی خرید و فروخت کے الزام میں بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق، ساحر نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وہ 13 سال سے منشیات استعمال کر رہا ہے اور 2 سال سے اس کی فروخت بھی کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہر ہفتے 4 سے 5 لاکھ روپے کی منشیات فروخت کرتا تھا اور اس کا پورا کاروبار اسنیپ چیٹ پر چلتا تھا۔

ساجد حسن کے بیتے کے  وکلاء کی ٹیم اس بات پر زور دے رہی ہے کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس اور منشیات کے معاملے کو الگ الگ دیکھا جائے۔

ساجد حسن نے بتایا کہ وہ ایک کرائے کے گھر میں رہتے ہیں، اور ان کا کام بند پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محلے والوں نے ان سے قطع تعلق کرلیا ہے، اور معاشرے نے انہیں اور ان کے بیٹے کو پہلے ہی مجرم سمجھ لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کی شادی ابھی ہوئی ہے، ہو سکتا ہے کہ اس سے کچھ غلطیاں ہوئی ہوں، لیکن اسے مصطفیٰ عامر قتل کیس سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ 

ساجد حسن نے کہا کہ انہیں عدالت پر بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘‘ 

واضح رہے کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس میں پولیس نےساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن سمیت 4 نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق، ساحر حسن سے منشیات بھی برآمد ہوئی ہے، اور انہوں نے تفتیش کے دوران 12 سے زائد کلائنٹس کے نام بھی بتائے ہیں۔

 
 

Ansa Awais

Content Writer