ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے؟ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؛ مرزاغالب کا 228 واں یوم پیدائش

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے؟ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؛ مرزاغالب کا 228 واں یوم پیدائش
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کا  228 واں یومِ پیدائش آج منایا جا رہا ہے۔

  مرزا غالب 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے اور اپنی منفرد شاعری کے ذریعے اردو ادب کو نئی پہچان دی۔

مرزا غالب کی شاعری میں عشق، فلسفہ اور زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ ان کا کلام آج بھی ادب سے محبت رکھنے والوں کے دلوں پر راج کر رہا ہے۔ دیوانِ غالب کو اردو ادب کا قیمتی سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

۔ سوشل میڈیا پر بھی غالب کے مشہور اشعار ٹرینڈ کر رہے ہیں اور شائقین ادب انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ماہرینِ ادب کا کہنا ہے کہ مرزا غالب کی شاعری وقت گزرنے کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے اور نئی نسل کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔

مرزا غالب  نے نہ صرف شاعری بلکہ انشاپردازی ، خطوط نویسی میں بھی کمال دکھایا ۔ غالب کا ہی  خاصہ تھا کہ انھوں نے  خطوط نویسی جیسی صنف کو نیا رخ دیا ۔ غالب کا کہنا تھا کہ ـ میں نے مراسلے کو آدھی ملاقات بنا دیا ہے ـ 

مرزا غالب

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا 
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا 

 15 فروری 1869ء کو مرزا غالب نے دہلی میں وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔ موجودہ دور میں غالب پر کئی فلمیں اور ڈرامے بھی بنے، ان کی شاعری نے اردو زبان کو ایسی جلا بخشی جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔