ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سکولوں میں سمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی عائد

سکولوں میں سمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی عائد
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : ایک ایشیائی ملک نے سکولوں کے اندر کلاس رومز میں سمارٹ فونز اور ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

جنوبی کوریا میں ایک قانونی بل کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت تعلیمی اداروں کے اندر بچے اور نوجوان سمارٹ فونز استعمال نہیں کرسکیں گے۔اس قانون کا اطلاق مارچ 2026 میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ہوگا۔

اس کا مقصدسمارٹ فون کی لت کی روک تھام کرنا ہے جس سے بچوں اور نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اراکین پارلیمان، والدین اور اساتذہ کے مطابق سمارٹ فون کے استعمال سے طالبعلموں کی تدریسی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور وہ پڑھائی پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتے۔جنوبی کوریا کی 163 اراکین پر مشتمل پارلیمان میں اس قانون کے حق میں 115 ووٹ ڈالے گئے۔

جنوبی کوریا کے بیشتر اسکولوں نے اپنی جانب سے سمارٹ فونز کے استعمال پر مختلف پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں، مگر اس قانون کے تحت اس پابندی کا اطلاق ملک گیر سطح پر ہوگا۔چین، اٹلی اور نیدرلینڈز بھی ایسے ممالک ہیں جہاں تمامسکولوں میں فون کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔

جنوبی کوریا میں سمارٹ فونز کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔5 کروڑ 10 لاکھ آبادی والے اس ملک کے ایک چوتھائی شہری سمارٹ فونز پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں مگر 10 سے 19 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں میں یہ شرح 43 فیصد ہے۔جنوبی کوریا کی حزب اختلاف کی جماعت کی جانب سے اس بل کو پارلیمان میں پیش کیا گیا۔

اس بل کو پیش کرنے والے رکن چو جنگ ہون نے بتایا کہ انہیں یہ خیال دیگر ممالک میں اس سے ملتی جلتی پابندیوں کو دیکھ کر آیا۔انہوں نے کہا کہ سائنسی اور طبی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ سمارٹ فونز کی لت طالبعلموں کی دماغی اور جذباتی نشوونما پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

ویسے تو قانون کے تحت کلاس روم کے اوقات کے دوران فونز کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی مگر اساتذہ کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ اسکول کے اندر طالبعلموں کو فونز استعمال کرنے سے روک سکیں گے۔

البتہ معذور طالبعلم یا خصوصی تعلیمی ضروریات پر طالبعلموں کو ڈیوائسز استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔