سٹی42: فلسطین کے صدر محمود عباس کے اعلیٰ معاون حسین الشیخ تنظیم آزادیِ فلسطین PLO کے پہلے نائب سربراہ منتخب ہو گئے ہیں۔
فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی، تنظیم کی سینئر اور سب سے محدود باڈی ہے، ایگزیکٹو کمیٹی نے حسین الشیخ کی تقرری کا اعلان کر دیا ہے۔ حسین اس وقت تک پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکرٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اب وہ PLO کے نائب سربراہ کے طور پر ذمہ داری سنبھالیں گے۔۔
یہ پہلا موقع ہے جب فلسطین کی موجودہ ریاست کی بانی تنظیم کے سربراہ اور اس کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی (فلسطین کی ریاست) کے صدر محمود عباس کا کوئی نائب مقرر ہوا ہے۔
حسین الشیخ، صدر محمود عباس کے ایک اعلیٰ معاون تصور کئے جاتے ہیں، وہ اس سے قبل PA کی جانب سے شہری امور کے وزیر کے طور پر کام کر چکے ہیں اور اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ اپنے معقول تعلقات کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔
نائب کے طور پر ان کا انتخاب عباس کی صحت کو کوئی مسئلہ ہونے کی صورت میں فلسطین کی اتھارٹی پر کنٹرول اور جانشینی کی جنگ میں ان کی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے۔
فلسطین لبریشن آرگنائزیشن فلسطینیوں کی بین الاقوامی نمائندہ تنظیم ہے۔ PLO نے 1990 کی دہائی میں اسرائیل کے ساتھ اوسلو معاہدے کے معاہدوں کے دوران فلسطینی اتھارٹی کی تشکیل کی، جس کا تصور اسرائیل کے ساتھ ایک خودمختار ریاست کے قیام سے قبل مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کے لیے ایک عبوری گورننگ باڈی کے طور پر کیا گیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی کو مکمل خود مختار ریاست تصور نہیں کیا جاتا لیکن یہ بہرحال ایک ریاست ہی کا بنیادی ڈھانچہ رکھتی ہے جسے مکمل اختیارات کی منتقلی کا عمل ہنوز ادھورا ہے۔
فلسطین میں تنظیم آزادیِ فلطین اور فلسطین کی محدود اختیارات کی مالک ریاست/ فلسطینی اتھارٹی- دونوں ادارے گزشتہ دو دہائیوں میں عملاً مترادف بن گئے ہیں، کیونکہ دونوں کی سربراہی محمود عباس کر رہے ہیں اور ان کی سیکولر قوم پرست الفتح پارٹی کا غلبہ ہے۔ محمود عباس سے پہلے یہ دونوں پوزیشنیں یاسر عرفات مرحوم کے پاس تھیں جو ان کی وفات کے بعد ان کے مقرر کئے ہوئے جانشین مھمود عباس کو منتقل ہوئیں۔ محمود عباس فلسطین مین ہونے والے آخری الیکشن میں اتھارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے تھے۔ اب اتھارٹی کی آئینی مدت ختم ہو چکی ہے لیکن نئے الیکشن کروانے میں مسلسل رکاوٹیں ہیں۔ اس دوران کئی سالوں سے فلسطین کے ایک اہم حصہ غزہ کی پٹی کی بیشتر آبادیوں پر فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول عملاً باقی نہیں رہا۔