ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

"انڈیا یقینی بنا رہا ہے کہ پاکستان کو پانی کا ایک قطرہ نہ مل سکے"مودی کے وزیر کی ڈینگ

Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  انڈیا کی ہندوتوا پرست مرکزی حکومت کے وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹیل نے ڈینگ ماری ہے کہ ’انڈین حکومت ایسی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی نہ مل سکے۔‘
 یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کو معطل کرنے سے سلسلے میں انڈیا میں ہونے والے ایک  اجلاس کے بعد مرکزی حکومت کے آبی وسائل کے وزیر سی آر پاٹل نے کہا کہ ’ وزیر اعظم مودی نے اس سلسلے میں کئی ہدایات جاری کی تھیں اور یہ اجلاس اسی پر عملدرآمد پر غور کرنے کے لیے ہوا تھا‘۔  پاٹیل نے دعویٰ کیا ، ’اس کے لیے مختصر، درمیانی اور طویل مدت کے تین مرحلوں  کی حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے انڈیا سے ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہ جا سکے۔‘
اس اجلاس کی صدارت انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے کی تھی اور اس میں  وزیر خارجہ بھی شریک تھے۔ اجلاس میں امت شاہ نے پاکستان کا پانی روکنے کے اقدامات کے "موثر نفاذ "کے لیے تجاویز پیش کیں۔

پاکستانی ریاست کا نقطہِ نظر

پاکستان کے دریاؤں کا پانی پاکستان کی ملکیت ہے جو پاکستان نے انٹرنیشنل سطح پر مانا گیا معاہدہ کر کے انڈیا کو تین دریاؤں کا پانی استعمال کرنے کا حق دے کر خریدا ہے۔ پاکستان اپنے ملکیتی دریاؤں کے پانی کا ایک قطرہ بھی اندیا میں روکے جانے کو برداشت نہیں کرے گا۔ اس حوالے سے حکومت واضح کر چکی ہے کہ پاکستان کے دریاؤں کا پانی روکے جانے کو جنگ کا اقدام تصور کیا جائے گا (اور پاکستان اس اقدام کے جواب میں جنگ ہی کرے گا!)

عوام کا نقطہِ نظر

پاکستان کے ملکیتی دریاؤں کا پانی روکنے کی کسی کوشش  کے متعلق پاکستان کے عوام کیا سوچ رہے ہیں، اس کی نشان دہی پاکستان کے سابق وزیر اعلیٰ متحمل اور بردبار لیڈر بلاول بھتو نے ان الفاظ میں کی، " دریائے سندھ ہمارا ہے اور یہ ہمارا رہے گا، اس دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون بہے گا۔‘"