آئی سی سی نے سوریا کمار یادیو کو قصور وار ٹھہرا دیا اور سوریا کمار یادو پر جرمانہ کر دیا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں پاکستان نے بھارت کے کیپٹن کے سیاسی کمنٹ پر اعتراض کیا تھا اور اسے کرکٹ کو سیاست زدہ کرنے کی وکشش قرار دیا تھا۔ پاکستان کی شکایت پر آئی سی سی نے آج سوریا کمار یادیو پر 30 فیصد میچ فیس کا جرمانہ عائد کر دیا۔
سوریا کمار یادو نے کیا حرکت کی تھی؛ رپورٹرز اور کرکٹ ذرائع کیا کہہ رہے ہیں
آئی سی سی نےآج فیصلہ کیا کہ سوریہ کمار یادیو نے پاکستان کے خلاف ایشیا کپ میچ (14 ستمبر) کے بعد ایسے تبصرے کر کے آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی جو سیاسی نوعیت کےتھے۔
خاص طور پر، سوریا کمار نے سرحد پار سے نام نہاد دشمنی کا حوالہ دیتے ہوئے، ہندوستان کی جیت کو پہلگام حملے کے متاثرین اور ہندوستانی مسلح افواج کو ڈیڈی کیٹ کیا۔
میچ ریفری رچی رچرڈسن نے ان کی جرم ثابت نہ ہونے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ان پر میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ عائد کیا۔
انہیں باقی ٹورنامنٹ کے دوران مزید سیاسی بیانات دینے سے گریز کرنے کی تنبیہ بھی کی گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان (بی سی سی آئی) نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔
سوریا کمار یادو کی اس حرکت کے ردعمل میں پاکستان کے صلح جو کھلاڑی حارث رؤف نے بعد کے پاکستان انڈیا میچ میں باؤنڈری لائن پر فیلڈنگ کرتے ہوئے مائم کر کے پاکستانی فینز کو یاد دلایا تھا کہ چھ مئی کو کیا ہوا تھا اور چھ صفر والا میچ کیا تھا۔ حارث رؤف کے مائم اتنے خوبصورت اور بے ساختہ تھے کہ ان کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ دیکھا اور ڈسکس کیا گیا، حارث رؤف کے منہ توڑ جواب سے گھبرا کر بھارتی کرکت بورڈ نے ان کے خلاف آئی سی سی میں شکایت کی اور آئی سی سی نے منہ سے ایک لفظ بھی نہ بولنے والے حارث رؤف کو بھی میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ کر دیا حالانکہ حارث رؤف پر الزام لگانے والے یہ نہیں بتا سکے تھے کہ حارث رؤف نے اپنے مائم (اشاروں پر مبنی اداکاری) سے ایسا کیا کہا تھا جو آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف تھا۔