بسیم فتخار :عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی قربانی کے آلات کو تیز کروانے کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے، تاہم اس سال چھریوں اور دیگر اوزاروں کو دھار لگوانے کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال چھریوں کو دھار لگوانے کے نرخ زیادہ وصول کیے جا رہے ہیں۔ بازاروں میں چھوٹی چھری تیز کروانے کے 80 روپے، بڑی چھری کے 200 روپے جبکہ بُھگدے کو تیز کروانے کے 300 روپے تک لیے جا رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس چھوٹی چھری 50 روپے جبکہ بڑی چھری 100 روپے میں تیز کروا لی جاتی تھی، لیکن اس بار قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جس سے قربانی کی تیاریوں کے اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب دکانداروں کا مؤقف ہے کہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ، مشینری کے اخراجات اور دیگر مہنگائی کے باعث دھار لگانے کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پرانے نرخوں پر کام کرنا ممکن نہیں رہا۔
دکانداروں نے یہ بھی کہا کہ کئی شہری چھریاں تیز کروانے کے باوجود مناسب معاوضہ ادا نہیں کرتے، جس کی وجہ سے کاروباری اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ عیدالاضحیٰ سے قبل ہر سال قربانی کے سامان، جانوروں اور متعلقہ خدمات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، اور اس سال بھی یہی رجحان برقرار ہے۔