ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں مغوی کی عدم بازیابی کے متعلق کیس کی سماعت ،ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا عدالت پیش ،عدالت نے زمہ دار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی رپورٹ پر بازیابی کے متعلق درخواست نمٹادی .
جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے شہری شاہد حسین کی درخواست پر سماعت کی ،ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا ، اسٹنایڈوکیٹ جنرل فلک شیر گل کے ہمراہ پیش ہوئے ،اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل فلک شیر گل نے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کی جانب سے رپورٹ پیش کی ،ڈی آئی جی انویسٹیگیشن نے عدالت کو بتایا کہ شہری کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر تھانہ کوٹ لکھپت کے تفتیشی افسر کو معطل کردیا ، ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس ایچ او کوٹ لکھپت کو شوکاز نوٹس جاری کیا ، جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا یہ شوکاز نوٹس وغیرہ تو آپ عدالتوں سے جان چھڑانے کے لیے دیتے ہیں ،تھانہ کے سی سی ٹی وی کیمرے کیوں نہیں چل رہے تھے ،تھانے کی بلڈنگ کی تبدیلی، بجلی کی بندش کی وجہ سے سی سی ٹی وی کیمرے فعال نہیں تھے ،عدالت نے ریمارکس دیے اگر سی سی ٹی وی کیمروں کو فعال کی نہیں رکھنا تو ان کے لگانے کا فائدہ ؟ مقدمہ کی تفتیش میں آپ تک کیا کیا پیش رفت ہوئی ہے، ڈی آئی جی انویسٹیگیشن تسلی بخش جواب نہ دے سکے ، جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کوشش کریں آپ کو نہ بلایا جائے ، اگر طلبی ہو جائے تو کچھ کام کرکے بھی آیا کریں ، عدالت نے فریقین کے وکلاء کا موقف سننے کے بعد درخواست نمٹادی ،عدالت کے حکم پر بیلف نے شہری کو تھانہ کوٹ لکھپت کی غیر قانونی حراست سے بازیاب کیا تھا ،عدالت نے گزشتہ سماعت پر سپلیمنٹری بیان پر مغوی کے خلاف چوری کا درج مقدمہ خارج کردیا تھا.