کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ، باجماعت نماز پر پابندی عائد

کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ، باجماعت نماز پر پابندی عائد

(سٹی 42) چین کے صوبے ووہان سے جنم لینے والی خطرناک بیماری کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں اور متاثرہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے جہاں اب تک وائرس سے 19 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور سوا 4 لاکھ متاثر ہو چکے ہیں، اٹلی سمیت دنیا بھر میں ہلاکتوں اور متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھنے کے سبب دنیا بھر میں کورونا وائرس کا خطرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور ملک میں مجموعی متاثرین کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی ہے، ملک میں کورونا ایک اور جان لے گیا، ہلاکتوں کی تعداد 8   ہوگئی، محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق لاہورمیں کوروناکے مریضوں کی تعداد80 اور پنجاب میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 323 ہوگئی ہے، تمام کنفرم مریض آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں، ان مریضوں کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

پنجاب حکومت جہاں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے مختلف اقدامات کررہی ہے وہیں ملک کے تمام سیاسی، سماجی و مذہبی ادارے  بھی اس قاتل وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں، لاہور سمیت پنجاب  بھر میں آج لاک ڈاؤن کا تیسرا روز ہے، تمام تعلیمی ادارے، مارکیٹیں، سینما گھر، شادی ہالز اورشاپنگ مالز بند ہیں،  کورونا وائرس سانس کے ذریعے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے طبی ماہرین نے شہریوں کو ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے اجتناب کرنے اور ماسک استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے باعث جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاؤن میں باجماعت نماز پر پابندی عائد کردی گئی،  انتظامیہ کے مطابق سائنسدانوں اور ایکسپرٹس کی ہدایات کی روشنی میں پابندی لگائی ہے، باجماعت نماز کی ادائیگی سے کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ ہو سکتا ، انتظامیہ جامعتہ المنتظرکے مطابق شہری نماز گھروں میں ادا کر سکتے ہیں۔

جامعۃ المنتظر کے مہتم اعلیٰ مولانا سید نیاز حسین نقوی نے کہا ہے کہ احتیاط کے ساتھ سورہ الکوثر اور سورہ والناس کو پڑھ کر پانی پی لیں تاکہ ہر قسم کے وائرس سے محفوظ رہ سکیں ۔