ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

محرم کا چاندنظرآگیا عاشورہ 6 جولائی کو ہو گا

Muharram Moon, New Moon, New Islamic year, Pakistan, Karbala, Imam Hussain AS

سٹی42:  پاکستان میں بھی محرم الحرام کا چاند نظر آنے کی شہادتیں مل گئیں۔ آج چاند نطر آنے سے یہ طے ہو گیا کہ عاشورہ کس روز ہو گا۔ آج اسلامی کیلنڈر پر نئے سال کا بھی آغاز ہو گیا۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق محرم الحرام  کا چاند نظر  پاکستان میں بھی نظرآ گیا ہے۔  

آج محرم کی پہلی شب/پہلی تاریخ ہے۔ نو محرم 5 جولائی کو ہفتے کے روز ہو گی اور 6 جولائی کو اتوار کا روز عاشورہ کا دن ہو گا۔

 مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے آج جمعرات کی شام روئیت ہلال کمیٹیوں کے اجلاسوں میں محرم کا چاند دیکھے جانے کی شہادتوں کا شرعی تجزیہ کرنے کے بعد اعلان کیا کہ علما کرام نے ان شہادتوں کو تسلیم کر لیا ہے۔ مولانا آزاد نے اعلان کیا کہ محرم الحرام کا چاند نظرآگی۔

مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس اجلاس میں ملک بھر سے چاند دیکھنے کی شہادتوں کا جائزہ لیا گیا۔خیال رہے کہ ماہرین فلکیات نے پیر کی شام کو محرم الحرام 1443ھ کا چاند نظر آنے کے واضح امکانات کی پیشگوئی کی تھی۔

پاکستان میں محرم کا چاند اور بادلوں کی رکاوٹ؛ کیا امکانات ہیں
کوئٹہ میں  محرم الحرام کا چاند دیکھنے کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کی صدارت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین مولانا عبدالخبیر آزاد نے کی۔  اجلاس میں زونل رویت ہلال کمیٹی کے ممبران، محکمہ موسمیات اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندگان بھی  شریک ہوئے۔

محرم کے چاند کی خاص اہمیت

محرم اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے اور اسلام کے چار مقدس مہینوں میں سے ایک ہے، جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے گہری روحانی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔

اس مہینے کی زیادہ اہمیت واقعہ کربلا کی وجہ سے ہے جو اس مہینے کی دس تاریخ ہو ہوا تھا۔ سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کے عقیدت مند محرم کا چاند طلوع ہوتے ہی، کربلا والوں کی یاد میں کھو جاتے ہیں۔ ان کے آلام و مصاب کو یاد کرنے کے لئے روزانہ مجالس ہوتی ہیں جن میں جمع ہونے والے کربلا  میں پیش آنے والے واقعات کی تاریخ میں لکھی گئی تفاصیل کو تاریخ وار  دہراتے ہیں اورحق سچ کی خاطر ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کے متعلق  اپنے ایمان کو نئے سرے سے استحکام دیتے ہیں۔

محرم کے پہلے دس دنوں میں عام طور سے دس مجالسِ عزا ہوتی ہیں۔ نو محرم کی رات کو شب بیداریاں ہوتی ہیں اور دس محرم کی صبح مجالسِ عزا میں اس روز کربلا میں ہونے والی حق و باطل کی عظیم جنگ کے واقعات کو بیان کیا جاتا ہے، امام علیہ السلام کے قیام اور  حق کے  اثبات کی خاطر شہادت قبول کرنے کے فلسفہ کو بیان کیا جاتا ہے۔

ان مجالس کے دوران سات محرم، آٹھ محرم اور نو محرم کو خاص ماتمی جلوس نکالے جاتے ہیں جن میں واقعہ کربلا کے کچھ خاص مرکزی کرداروں سے وابستہ یادوں کو تازہ کیا جاتا ہے۔ 

سات محرم کو مولائے کائنات، شیعہ اسلام کے اول امام، امام علی علیہ السلام کے صاحبزادے غازی عباس سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس روز  ہونے والی مجالس میں بھی عباس کی شہادت کے واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے اور  سڑکوں پر نکالے گئے ماتمی جلوسوں میں بھی غازی عباس کے حوالے  سے لکھے گئے نوحے پڑھے جاتے ہیں۔

آٹھ محرم کو  بیشتر علاقوں میں کربلا کے کم سِن شہید علی اصغر سے منسوب کیا جاتا ہے۔ علی اصغر محض چھ ماہ کے تھے جب عاشور کے روز انہین ان کے والد امام حسین علیہ السلام کی بانہوں میں تیر مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔  کربلا کے واقعات کی تاریخ قلمبند کرنے والوں کی گواہیوں کے مطابق شہید کئے جانے کے وقت موصوم  علی اصغر پیاسے تھے اور امام ان کے لئے پانی  مانگنے کے لئے لشکرِ باطل کے روبرو گئے تھے، وہاں انہیں پانی کی بجائے معصوم کے وزن سے بھی زیادہ وزنی تیر سے جواب ملا تھا۔

نویں محرم کو عام طور سے امام حسین علیہ السلام کے صاحبزادے علی اکبر کی شہادت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ علی اکبر کربلا  برپا ہونے کے وقت نوخیز نوجوان تھے،  بعض روایات کے مطابق ان کی شادی کربلا کے ریگزار میں شہادت سے  کچھ ہی پہلے کی گئی تھی۔

اختتام پر خاص ماتمی جلوس نکالے جاتے ہیں جن میں شریک اہل ایمان کربلا والوں کے مصائب کو نوحوں کی صورت میں بیان کرتے ہیں اور تمام وقت ماتم و گریہ کرتے ہوئے مخصوص راستوں پر آگے چلتے جاتے ہیں۔ اس روز دنیا بھر میں سوگوارانِ قافلہَ کرب و بلا اپنے اپنے انداز سے اپنی اپنی روایات کے مطابق ماتم کرتے ہیں۔ پاکستان میں پانچ زنجیروں کے سروں پر بندھی چھریوں اور تلواروں سے بھی ماتم کر کے بھی امامِ مظلوم علیہ السلام کو پرسہ دیا جاتا ہے۔ 

اس دن کا اختتام امام بارگاہوں میں شام ڈھلے ہونے والی خاص مجالس پر ہوتا ہے، ان مجلسوں کو  پاکستان اور اندیا میں مقامی کلچر کی  مناسبت سے "شامِ غریباں" کہا جاتا ہے۔ ان خاص مجالس میں کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مختصر لشکر کے تمام مردوں (ماسوائے امام زین العابدین علیہ السلام)  کے قتل کے بعد  وہاں باقی رہ جانے والی خوااتین اور عابدِ بیمار  کی مشکلات اور مصائب  کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ 

آج شام روئیت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ میں ہوگا۔

بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں آج شام آسمان صاف ہونے کی وجہ سے نیا چاند نطر آنے کا زیادہ امکان  بلوچستان میں ہی ہے۔

 کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد اجلاس کی صدارت کریں گے۔

زونل اور ضلعی رویت ہلال کمیٹیوں کا اجلاس ملک بھر میں اپنے متعلقہ ہیڈ کوارٹرز میں بیک وقت ہوگا۔ چاند نظر آنے کا حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے۔