سٹی42: آج محرم کا چاند اپنی آنکھوں سے دیکھنے میں بادل رکاوٹ بن گئے۔ ملک کے بیشتر حصوں میں آج جمعرات کی شام آسمان بادلوں سے بھرا ہوا ہے۔ لاہور میں بھی کل شام سے بادل آسمان پر چھائے ہوئے ہیں۔ آج ذی الحج کی 29 تاریخ ہے۔ ٹیکنیکلی چاند کا مہینہ 30 دن تک کا ہوتا ہے۔ اگر 29 تاریخ کی شام کو نیا چاند نظر نہ آئے تو روئیت ہلال کمیٹی مہینے کو 30 دن کا تصور کرتے ہوئے اگلی شام غروب آفتاب کے بعد نئے مہینے کی ابتدا کا علان کرتی ہے۔
نئے اسلامی سال کے آغاز کے موقع پر محرم کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور صوبوں کی روئیت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس آج (جمعرات) کو کچھ دیر بعد شروع ہو رہے ہیں۔
آج محرم الحرام کا چاند نظر آنے کا یقین
مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے ملک کے کچھ شہروں میں چاند دیکھنا مشکل ہو گا لیکن عوام کو یقین ہے کہ آج پاکستان میں چاند نظر آئے نہ آئے، روئیت ہلال کمیٹی آج نیا چاند طلوع ہونے کی نوید سنائے گی اور آج شب مھرم کی پہلی رات شمار ہو گی۔ عوام کے اس یقین کی وجہ سادہ ہے؛ سعودی عرب اور کئی دوسرے ملکوں میں محرم کا چاند کل بدھ کی شام نظر آ گیا تھا، وہاں آج محرم کا پہلا دن تھا اور مغرب کے بعد محرم کے دوسرے دن کا آغاز ہو جائے گا۔
سعودی عرب میں محرم الحرام 1447 ہجری کا چاند نظر آ گیا
سعودی عرب میں نئے ہجری سال کے پہلے مہینے کا چاند کل شام نطر نظر آ گیا تھا اور سرکاری سطح پر نئے ہجری سال اور محرم کے آغاز کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
سعودی عرب کے تمیر ریجن میں نئے سال 1447 ہجری کے پہلے مہینے محرم الحرام کا چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹیوں کا اجلاس ہوا تھا۔ سورج ڈھلنے کے کچھ ہی دیر بعد کل شام سعودی میڈیا نے بتایا کہ سعودی عرب میں محرم الحرام 1447 ہجری کا چاند نظر آ گیا ہے۔
سعودی عرب میں ذی الحج کا چاند بھی پاکستان سے ایک دن پہلے دیکھ لیا گیا تھا۔ سعودی عرب میں ذی الحج کے 29 دن کے بعد مھرم کا چاند طلوع ہوا ہے اور امید ہے کہ آج پاکستان مین بھی ایسا ہی ہو گا۔
سائنسدانوں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ پاکستان میں محرم الحرام کا چاند 26 جون کو نظر آنے کا امکان ہے۔ لیکن آج لاہور اور بہت سے دوسرے شہروں میں آسمان پر بادل ہونے کی وجہ سے یہ یقین نہیں کہ کس جگہ کے مکین چاند کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی سعادت حاصل کریں گے۔
بلوچستان میں چاند کو آنکھوں سے دیکھے جانے کا امکان
محکمۂ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے مغربی علاقوں میں چاند صاف نظر آ سکتا ہے۔
سعی ضرور کیجئے
گو کہ آسمان پر ہر طرف بادل ہین لیکن بادل فضا مین ہواؤں کے ساتھ ہر وقت متحرک رہتے ہیں، چاند آسمان کے مغربی حصے میں دکھائی دیتا ہے اور محض دس بارہ منٹ کے لئے ہی انسانی آنکھ کے سامنے آتا ہے، اس کے بعد زمین اور چاند کی گردشوں کے سب ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ آج شام مغرب کے وقت کسی بھی جگہ آسمان کا مغربی کنارا بادلوں سے صاف ہو گیا تو وہاں چاند نظر آ سکتا ہے۔
نئے مہینے کا چاند دیکھنے کو اسلامی روایات مین سعادت تصور کیا جاتا ہے۔ آسمان بھلے ہی بادلوں سے بھرا ہو، چاند کو تلاش کرنے کی کوشش ضرور کیجئے، ممکن ہے کہ عین وقت پر بادل آپ کی بصارت کو کچھ راستہ دے دین اور چاند کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی سعادت آپ کے حصے مین بھی آ جائے۔
محرم کے چاند کی خاص اہمیت
محرم اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے اور اسلام کے چار مقدس مہینوں میں سے ایک ہے، جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے گہری روحانی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔
اس مہینے کی زیادہ اہمیت واقعہ کربلا کی وجہ سے ہے جو اس مہینے کی دس تاریخ ہو ہوا تھا۔ سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کے عقیدت مند محرم کا چاند طلوع ہوتے ہی، کربلا والوں کی یاد میں کھو جاتے ہیں۔ ان کے آلام و مصاب کو یاد کرنے کے لئے روزانہ مجالس ہوتی ہیں جن میں جمع ہونے والے کربلا میں پیش آنے والے واقعات کی تاریخ میں لکھی گئی تفاصیل کو تاریخ وار دہراتے ہیں اورحق سچ کی خاطر ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کے متعلق اپنے ایمان کو نئے سرے سے استحکام دیتے ہیں۔
محرم کے پہلے دس دنوں میں عام طور سے دس مجالسِ عزا ہوتی ہیں۔ نو محرم کی رات کو شب بیداریاں ہوتی ہیں اور دس محرم کی صبح مجالسِ عزا میں اس روز کربلا مین ہونے والی حق و بالط کی عظیم جنگ کے واقعات کو بیان کیا جاتا ہے، امام علیہ السلام کے قیام اور حق کے اثبات کی خاطر شہادت قبول کرنے کے فلسفہ کو بیان کیا جاتا ہے۔
ان مجالس کے دوران سات محرم، آٹھ محرم اور نو محرم کو خٓص ماتمی جلوس نکالے جاتے ہیں جن میں واقعہ کربلا کے کچھ خاص مرکزی کرداروں سے وابستہ یادوں کو تازہ کیا جاتا ہے۔
سات محرم کو مولائے کائنات شیعہ اسلام کے اول امام امام علی علیہ السلام کے صاحبزادے غازی عباس سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس روز ہونے والی مجالس مین بھی عباس کی شہادت کے واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے اور سڑکوں پر نکالے گئے ماتمی جلوسوں مین بھی غازی عباس کے حوالے سے لکھے گئے نوحے پرھے جاتے ہیں۔
آٹھ محرم کو بیشتر علاقوں میں کربلا کے کم سِن شہید علی اصغر سے منسوب کیا جاتا ہے۔ علی اصضر محض چھ ماہ کے تھے جب عاشور کے روز انہین ان کے والد امام حسین علیہ السلام کی بانہوں مین تیر مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔ کربلا کے واقعات کی تاریخ قلمبند کرنے والوں کی گواہیوں کے مطابق شہید کئے جانے کے وقت موصوم علی اصغر پیاسے تھے اور امام ان کے لئے پانی مانگنے کے لئے لشکرِ باطل کے روبرو گئے تھے، وہاں انہیں پانی کی بجائے معصوم کے وزن سے بھی زیادہ وزنے تیر سے جواب ملا تھا۔
نویں محرم کو عام طور سے امام حسین علیہ السلام کے صاحبزادے علی اکبر کی شہادت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ علی اکبر کربلا برپا ہونے کے وقت نوخیز نوجوان تھے، بعض روایات کے مطابق ان کی شادی کربلا کے ریگزار میں شہادت سے کچھ ہی پہلے کی گئی تھی۔
اختتام پر خاص ماتمی جلوس نکالے جاتے ہیں جن میں شریک اہل ایمان کربلا والوں کے مصائب کو نوحوں کی صورت میں بیان کرتے ہیں اور تمام وقت ماتم و گریہ کرتے ہوئے مخصوص راستوں پر آگے چلتے جاتے ہیں۔ اس روز دنیا بھر میں سوگوارانِ قافلہَ کرب و بلا اپنے اپنے انداز سے اپنی اپنی روایات کے مطابق ماتم کرتے ہیں۔ پاکستان میں پانچ زنجیروں کے سروں پر بندھی چھریوں اور تلواروں سے بھی ماتم کر کے بھی امامِ مظلوم علیہ السلام کو پرسہ دیا جاتا ہے۔
اس دن کا اختتام امام بارگاہوں میں شام ڈھلے ہونے والی خاص مجالس پر ہوتا ہے، ان مجلسوں کو پاکستان اور اندیا میں مقامی کلچر کی مناسبت سے "شامِ غریباں" کہا جاتا ہے۔ ان خاص مجالس میں کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مختصر لشکر کے تمام مردوں (ماسوائے امام زین العابدین علیہ السلام) کے قتل کے بعد وہاں باقی رہ جانے والی خوااتین اور عابدِ بیمار کی مشکلات اور مصائب کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
آج شام روئیت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ میں ہوگا۔
بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں آج شام آسمان صاف ہونے کی وجہ سے نیا چاند نطر آنے کا زیادہ امکان بلوچستان میں ہی ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد اجلاس کی صدارت کریں گے۔
زونل اور ضلعی رویت ہلال کمیٹیوں کا اجلاس ملک بھر میں اپنے متعلقہ ہیڈ کوارٹرز میں بیک وقت ہوگا۔ چاند نظر آنے کا حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے۔
سپارکو کی فور کاسٹ
پاکستان کی قومی خلائی ایجنسی سپارکو نے پیش گوئی کی ہے کہ محرم کا چاند 26 جون کو نظر آنے کا امکان ہے۔
سپارکو کے ترجمان کے مطابق نئے چاند کی پیدائش 25 جون 2025 کو سہ پہر 3 بجکر 32 منٹ پر ہو چکی ہے۔آج 26 جون کو سورج غروب ہونے تک، چاند کی عمر تقریباً 28 گھنٹے اور 15 منٹ ہو گئی تھی - یہ حالت مرئیت کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہے۔
