ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ورلڈ کپ کیوں دیکھتی ہے پوری دنیا؟ اہم وجہ سامنے آ گئی

ورلڈ کپ کیوں دیکھتی ہے پوری دنیا؟ اہم وجہ سامنے آ گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: ورلڈ کپ 2026 کی افتتاحی اور اختتامی تقریبات تیار کرنے والی عالمی انٹرٹینمنٹ کمپنی بینجے لائیو (Banijay Live) کے چیف ایگزیکٹو مارکو باسیٹی کا کہنا ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں ورلڈ کپ دنیا کے چند ایسے ایونٹس میں شامل ہے جو ایک ہی وقت میں کروڑوں ناظرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا سکتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے مارکو باسیٹی نے کہا کہ کسی بھی عالمی ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے میزبان ممالک کی ثقافت کو نمایاں رکھنا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق ورلڈ کپ کی تقریبات میں مقامی فنکاروں، تخلیق کاروں اور ٹیموں کو شامل کرنا ہی اس کی اصل خوبصورتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ورلڈ کپ اور اولمپکس جیسے بڑے مقابلے ایک ہی شہر تک محدود نہیں رہیں گے، کیونکہ مختلف شہروں میں ایونٹس کا انعقاد زیادہ مؤثر اور پائیدار ماڈل ثابت ہو رہا ہے۔

مارکو باسیٹی کا کہنا تھا کہ نیٹ فلکس، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے درمیان سخت مقابلے کے باوجود ٹیلی ویژن اور پروفیشنل پروڈکشن کی اہمیت برقرار ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر ہر شخص ویڈیو بنا سکتا ہے، لیکن بڑے اور معیاری شوز کے لیے پیشہ ورانہ مہارت، وسائل اور مضبوط پروڈکشن اب بھی ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے مقبول ترین شوز جیسے "منی ہائسٹ" (La Casa de Papel)، "اسکوئڈ گیم" اور "ڈارک" کو عالمی کامیابی کے لیے نہیں بلکہ مقامی ناظرین کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا تھا، تاہم یہی مقامی کہانیاں بعد میں عالمی سطح پر مقبول ہو گئیں۔

بینجے لائیو کے سربراہ کے مطابق کسی بھی ٹی وی فارمیٹ کی عالمی کامیابی کا راز یہی ہے کہ وہ پہلے اپنے مقامی بازار میں کامیاب ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ "ماسٹر شیف"، "بگ برادر" اور "دی ٹریٹرز" جیسے پروگرام ہر ملک میں وہاں کی زبان، ثقافت اور ناظرین کی پسند کے مطابق ڈھالے جاتے ہیں۔

مارکو باسیٹی نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز نوجوانوں کی پسند کو یکساں بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف ممالک کے ناظرین آج بھی اپنی ثقافت اور مقامی کہانیوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، اسی لیے عالمی پلیٹ فارمز بھی اب ہر ملک کے لیے مقامی زبان اور ثقافت پر مبنی مواد تیار کرنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔