(ملک اشرف) چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈاکٹرز کی تنخواہوں کے معاملے کو حل کرنے کے لئے پے کمیشن قائم کر دیا۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے قرار دیا کہ کنٹریکٹ ڈاکٹرز کو مستقل کرنے کا حکم جاری کیا جا چکا ہے۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان نے سائلین کی درخواستوں کی داد رسی کے دوران ینگ ڈاکٹرز کے معاملے پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر پہلی مرتبہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں ادویات موجود ہیں، ڈاکٹرز کے لئے بڑی خوشخبری ہے، تنخواہوں کے معاملے کو حل کرنے کے لئے پے کمیشن قائم کر دیا گیا، کنٹریکٹ ڈاکٹرز کو مستقل کرنے کا حکم جاری کیا جا چکا ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر کی تعیناتی ہو چکی ہے شاید کسی کو علم ہی نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ سرچ کمیٹی کی سفارش پر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کو تعینات کر دیا گیا، سیکرٹری صحت پنجاب نے نئی تعیناتی سے آگاہ کر دیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پہلی مرتبہ ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات میسر ہیں، نئی ادویات ساز کمپنیاں رجسٹریشن کے لئے اپلائی کریں گی تو ان کا معاملہ بھی دیکھیں گے۔