پاکستان کا مفاد سامنے رکھتے ہوئے تحمل سے کام لیا:شہباز شریف


سٹی42:مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے انتخابات 2018ء کے نتائج مسترد کر دئیے۔انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں کارروائی کی گئی۔ پری پول رگنگ کا پہلے ہی بتا دیا تھا۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن 3بجے 14 نومبر2018  

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج جو کچھ ہوا، پاکستان تیس سال پیچھے چلا گیا ہے۔ ملک بھر سے شکایات موصول ہوئیں کہ فارم 45 نہیں دیے جا رہے، جبکہ پولنگ ایجنٹس کو بھی پولنگ اسٹیشنز سے باہر نکال دیا گیا، انہوں نے حالیہ انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے نتائج کو مسترد کردیا۔

 

صدر مسلم لیگ ن نے مزید کہا کہ انہوں نے پاکستان کا مفاد سامنے رکھتے ہوئے تحمل سے کام لیا۔ پولنگ کے بعد کی صورت حال انہوں نے اپنے سیاسی کریئر میں کبھی نہیں دیکھی، ووٹرز کی توہین ناقابل برداشت ہے۔ لاہور سے ان کے ایاز صادق اور پرویز ملک کا رزلٹ روک لیا گیا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن سے پولنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست کی وہ بھی قبول نہ ہوئی۔ جلد دوسری جماعتوں کے ساتھ ملکراگلا لائحہ عمل تیار کریں گے، دھاندلی زدہ نتائج سے ملک کو نقصان ہوگا۔