ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

165 برس پرانے تعزیرات پاکستان و ضابطہ فوجداری میں ترمیم کرنیکا فیصلہ

165 برس پرانے تعزیرات پاکستان و ضابطہ فوجداری میں ترمیم کرنیکا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف:سائبر کرائم، دہشتگری، خواتین، بچوں، امن و امان بارےقوانین میں ترامیم کیلئے تجاویز طلب، قوانین میں اصلاحات لانے کیلئے لاء ریفارمز کمیٹی قائم، ذہین و قانون پر گرفت رکھنے والے ڈی آئی جی کامران عادل 6 رکنی کمیٹی کے سربراہ مقرر ہونگے۔
کمیٹی پنجاب میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے قوانین میں ترمیم تجویز کرے گی، کمیٹی 127 برس پرانے ضابطہ فوجداری میں بھی ترامیم تجویز کرے گی، قانون شہادت آرڈر 1984میں ترامیم تجویز کرنا کمیٹی کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔
کمیٹی‏ قانون کے نفاذ، جرائم کی روک تھام کیلئے بھی سفارشات تیار کرے گی، کمیٹی امن عامہ کی بحالی بارے قانون سازی کیلئے قانونی اصلاحات کی سفارش کرے گی، کمیٹی انسداددہشتگردی، سائبر کرائم، سائبر سکیورٹی بارے ترامیم کیلئےتجاویزدےگی۔
کمیٹی نیشنل سکیورٹی قانون سے متعلق بھی ڈرافٹ تیار کرے گی، کمیٹی بین الصوبائی رابطہ سے متعلق قوانین میں ترامیم کی تجویز بھی دے گی، کمیٹی قوانین کوجدید سماجی و سیاسی پیشرفت سے ہم آہنگ کرنے بارے سفارشات دے گی۔
کمیٹی جرائم پر قابو پانے کے طریقوں کو مزید بہتر کرنے کے لئے تجاویز بھی دے گی، کمیٹی قوانین میں اصلاحات سےمتعلق اپنی سفارشات 3 ماہ میں محکمہ داخلہ کو پیش کرے گی۔