ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب حکومت کا مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن کے حوالے سے  بڑا فیصلہ

پنجاب حکومت کا مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن کے حوالے سے  بڑا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

قیصر کھوکھر:   پنجاب حکومت نے مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن کے حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے  پرانے مینوئل اسلحہ لائسنس کی توثیق اور کمپیوٹرائزیشن کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ 

محکمہ داخلہ نے 2016 میں مینوئل اسلحہ لائسنسز کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل شروع کیا تھا، اور اس کا اختتام 31 دسمبر 2020 تک تھا۔ اس تاریخ تک کمپیوٹرائزڈ نہ ہونے والے مینوئل لائسنس منسوخ کر دیے گئے تھے۔ تاہم، ابتدائی مشق میں بہت سے شہری اپنے اسلحہ لائسنسز کمپیوٹرائزڈ نہ کرا سکے، اور اب ان کے پاس منسوخ شدہ لائسنس اور کتابچے موجود ہیں۔

اب محکمہ داخلہ نے شہریوں کی سہولت کے لیے اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن کا دوبارہ آغاز کیا ہے، تاکہ پرانے مینوئل اسلحہ لائسنسز کی توثیق اور کمپیوٹرائزیشن ممکن ہو سکے۔ لائسنس ہولڈرز اپنے متعلقہ ڈویژن میں درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں، جہاں ان کے ریکارڈ اور کاغذات کی تصدیق کی جائے گی۔ تصدیق کے بعد متعلقہ کمشنر یا ایڈیشنل سیکرٹری اہل امیدواروں کو لائسنس جاری کریں گے۔

محکمہ داخلہ نے اسلحہ لائسنس کی توثیق اور کمپیوٹرائزیشن کے لیے طریقہ کار بھی جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق ڈویژنل کمشنرز یا ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل اس عمل کی نگرانی کریں گے۔ اسلحہ لائسنس کی توثیق کا اختیار صرف متعلقہ کمشنر یا ایڈیشنل سیکرٹری کو ہوگا، اور وہ اسے کسی ماتحت افسر کو تفویض نہیں کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ، تمام امیدواروں کو پنجاب آرمز رولز 2023 کے تحت لائسنس کی تجدیدی فیس بھی ادا کرنا ہوگی۔

محکمہ داخلہ نے نادرا کو بھی مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن کے لیے انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔