ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  مسترد شدہ  مودی کا کشمیر میں متبادل حکومت کھڑی کرنے کیلئے کشمیریوں پر کریک ڈاؤن، ہزاروں گرفتار

Kulgam, Pahalgam, Anant Nag, Indian Occupied Kashmir, IOK, Jammu and Kashmir, Omer Abdullah, National Conference, Crack down on Kashmiri youths
کیپشن: مقبوضہ کشمیر میں ہر طرف فوج ہی فوج ہے لیکن یہ فوجی اتنے دلیر ہیں کہ خود کو نقابوں میں چھپائے بغیر پبلک مقامات پر نہیں آتے۔ اب دو دن میں دو ہزار کشمیریوں کو گرفتار کر لیا لیکن پہلگان سانحہ میں ملوث ایک بھی مجرم کو نہیں پکڑا، ان مجرموں کو شاید کبھی پکڑا بھی نہیں جائے گا کیونکہ عام تاثر یہی ہے کہ پہلگام سانحہ خود بھارتی ایجنسیوں کی ہی کارستانی ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی  ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی۔ نریندر مودی کی مرکزی حکومت ریاست میں لوک سبھا الیکشن اور ریاستی الیکشن میں بری طرح مسترد کئے جانے کے بعد کچھ ہی مہینے خاموش رہی اور اب پہلگام سانحہ کو لے کر ایک بار پھر ریاست کے عوام سے مسترد کئے جانے کا انتقام لینے لگی،  قابض فوج نے وادی کے  مختلف اضلاع سے 2 ہزار سے زائد کشمیریوں کوگرفتارکرلیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی کے مختلف علاقوں میں بھارتی فوج  گزشتہ کئی سلوں کا بدترین کریک ڈاؤن  کر رہی ہے۔  فوج نےکشمیریوں کے مزید 5 گھر گرا دیئے۔ دو دن میں کشمیریوں کے گرائے جانے والےگھروں کی تعداد7 ہوگئی ہے۔ لوگ حیرت اور غصے کے ساتھ سوال کر رہے ہیں کہ جن کے گھر گرائے گئے ان میں سے کوئی بھی پہلگام سانحہ میں ملوث نہیں ہے تو گھر گرائے جانے کا کیا جواز ہے۔ وادی میں یہ تاثر شدت سے ابھر رہا ہے کہ ان لوگوں کو اور گرفتار کئے جانے والے ہزاروں نوجوانوں کو صرف مودی کی مخالفت کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ 

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پلوامہ،کلگام اور شوپیاں میں کشمیریوں کےگھروں کو دھماکا خیز مواد  استعمال کر کے اسی طرح  تباہ کیا گیا جیسے دہشتگرد کوئی کارروائی کرتے ہیں۔

بھارتی فوج نے وادی کے مختلف علاقوں میں پہلے سے موجود فہرستوں کو  بروئے کار لا کر 2 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کرلیا یہ سب لوگ آزادی کے حامی ہیں لیکن کسی کا بھی پہلگام سانحہ سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔

بھارتی فوج نے صرف ضلع اسلام آباد  اننت ناگ سے 175 سے زیادہ کشمیری نوجوان گرفتار کیے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو  18 ستمبر  2024 سے شروع ہونے والے ریاستی اسمبلی کے الیکشن کے تین مرحلوں میں کشمیری عوام نے بری طرح مسترد کیا تھا، نہ صرف وادی بلکہ ہندو اکثریت کے جموں کے علاقوں میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار  مسترد ہوئے تھے، وادی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی آلہ کار بننے والی محبوبہ مفتی کی پارٹی کا صفایا ہو گیا تھا اور خود محبوبہ مفتی کو الیکشن میں امیدوار بننے کی ہی جرات نہیں ہوئی تھی، ان کے گھر کے ھلقہ سے ان کی بیٹی الیکشن ہار گئی تھی۔ جموں میں کانگرس نے بی جے پی کو صرف انتہا پسندی کا رجحان رکھنے والوں کے اکثریتی حلقوں تک محدود کر دیا تھا، ریاست میں نیشنل کانفرنس پارٹی اور کانگرس کی اتحادی حکومت بنی اور بی جے پی یہاں  سیاست سے آؤٹ ہو گئی تھی۔

اب پہلگام سانحہ کو لے کر نریندر مودی کی مرکزی حکومت نے ایک طرف تو پاکستان کے خلاف نفرت کا الاؤ پھڑکایا ہے اور دوسری طرف ریاست میں اپنی مخالف کانگرس اور نیشنل کانفرنس کی حکومت کو بائی پاس کرتے ہوئے  نام نہاد سکیورٹی کا مسئلہ کھڑا کر کے گھر گھر گرفتاریاں کر کے  پیرلل سکیورٹی حکومت کھڑی کر رہی ہے۔  حالانکہ جب سے عمر عبداللہ کی حکومت آئی ہے کشمیر میں ماضی کی نسبت تقریباً مکمل امن رہا ہے۔