نئی دلی کی طرف سے منگل کے روز مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے مہلک حملے کا الزام اسلام آباد کے حمایت یافتہ عسکریت پسند پہ عائد کرنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پھر کشیدگی بھڑک اٹھی ۔ بدھ کے روز بھارت نے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کے ساتھ ہی اہم سرحدی کراسنگ کو بند کرنے کے علاوہ پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے کو اس وقت تک معطل رکھنے کا اعادہ کیا جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کے لیے اپنی حمایت کو فی الحقیقت ترک کرنے پہ قائل ہو نہیں جاتا تاہم آرٹیکل 12 صرف اس معاہدے سے دو طرفہ دستبرداری کی اجازت دیتا ہے ، اس میں یکطرفہ طور پر معطلی کا کوئی بندوبست نہیں پایا جاتا ، البتہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سندھ طاس معاہدہ میں کچھ ترامیم کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔
جمعرات کو اپنے خطاب میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا '' ہندوستان ہر دہشت گرد اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کا سراغ لگا کر انہیں سزا دے گا '' ۔ لاریب، پہلگام حملے نے ہندوستان کو چونکا دیا کیونکہ اس میں حملہ آوروں کا انتہائی حساس علاقہ میں سیاحوں کو نشانہ بنانے کے بعد باآسانی نکل جانا ، مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے پچھلے حملوں سے چند قدم آگے کی نشاندہی کرتا ہے ۔
افغانستان سے امریکی انخلاء کی شرعات کے ساتھ اگر جنوبی ایشیا کی جیو اسٹریٹجک فضا میں پیدا ہونے والے غیر معمولی تغیرات پہ نظر ڈالیں تو خطہ بارے ہمارے روایتی تصورات دگرگوں ہو جائیں گے ، ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیکورٹی اہلکاروں پر 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد جس کی ذمہ داری پاکستان میں مقیم ایک عسکریت پسند گروپ پہ عائد کی گئی تھی ، ہندوستان نے پاکستانی علاقے میں فضائی حملوں کی جسارت کی تو جواب میں پاکستانی فضائیہ نے دو بھارتی طیاروں کو مار گرا کر پائلٹ ابھینندن کو زندہ پکڑ لیا ، بھارت خاموشی کے ساتھ پیچھے ہٹ گیا ، گزشتہ سال ایرانی فضائیہ نے بلوچستان کے اندر بمباری کی تو جواب میں پاک فضائیہ نے ایران کے اندر سرمچاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر ایران کی مذہبی قیادت کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ، امریکہ کو آنکھیں دیکھانے والی ایرانی مقتدرہ نے اس کاروائی کو ہضم کر لیا، ابھی حال ہی میں پاک فضائیہ نے پاکستانی علاقوں میں پولیس اور سیکیورٹی فورسسز پہ دہشتگردانہ حملے کرنے والی ٹی ٹی پی کے افغانستان کے اندر موجود ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر افغان طالبان حکومت کو سرنگوں کر دیا ، یہ کوئی معمولی سرگرمیاں نہیں تھی بلکہ خطہ میں پاکستان کی ابھرتی ہوئی فوجی طاقت کا کھلا اظہار تھا ۔
10 مارچ کو بی ایل اے کے باغیوں کی طرف سے بلوچستان کے ضلع بولان میں جعفر ایکسپریس ٹرین کی ہائی جیکنگ کے واقع کے بعد نہایت پراسرار انداز میں بلوچستان میں بغاوت کی مہیب لہریں اچانک تھم گئیں اور خیبر پختون خوا میں ٹی ٹی پی کی جارحانہ کاروائیاں تقریباً ختم ہو جانے کے ساتھ ہی پُرتشدد کاروائیوں کی وہ گونج جو پاکستانی میڈیا میں سنائی دیتی تھی اب بھارت کی حدود میں داخل ہو چکی ہے ، جس سے بظاہر یہی تاثر ملتا ہے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت تمام مسلح تنظمیں کسی نہ کسی سطح پہ ، بلاواسطہ یا بلواسطہ ، پاکستانی ریاست کے کنٹرول میں ہیں ، چنانچہ خدشہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تشدد کا بڑھتا ہوا رجحان پورے ہندوستان میں پائے جانے والے داخلی تنازعات اور علیحدگی کی تحریکوں ، خاصکر مشرقی پنجاب میں سکھوں اورجنوب مشرق میں منی پور کی شورش ، کو زیادہ سنگین بنا دے گا ۔
چنانچہ عالمی منظرنامہ پہ اقتصادی طور پر ابھرتے بھارت کے پاس چین ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے دائمی تنازعات کو پُرامن طریقوں سے نمٹانے کے سوا کوئی راہ باقی نہیں بچی ، بظاہر یہی لگتا ہے کہ بھارت بقاء باہمی کی خاطر اندر سے آمادہ بھی ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ محض دریائی پانیوں کی تقسیم تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ کشمیر کی جغرافیائی تقسیم پہ محیط ایسی جامع دستاویز ہے جس نے لائن آف کنٹرول کو عملاً ایسی مستقل سرحد میں مربوط کر لیا ،جسے پاک بھارت کے درمیان لڑی جانے والی دو بڑی جنگیں بھی متاثر نہ کر سکیں ۔ پھر 1998 میں دونوں ممالک کی طرف سے ایٹمی دھماکوں کے بعد گزشتہ دو دہائیوں کے دوران غیر محسوس انداز میں دو طرفہ پیشقدمی تنازعہ کشمیر کے مستقل حل کی طرف بڑھنے کی تائید کرتی ہے ، پاکستان نے پہلے گلگت بلستان کو ضم کر لیا ، اُس کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے مبینہ طور پہ عالمی طاقتوں کی ایما پر 5 اگست 2019 میں بھارت کو آرٹیکل370 کو منسوخ کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے ریاست کو جموں و کشمیر اور لداخ میں منقسم کرتے ہوئے مرکزی اقتدار میں ضم کرنے کا موقعہ فراہم کیا ۔ پاک بھارت موجود کشمکش بھی شاید اپنی انتہا میں دونوں ممالک کی عوام کو ایک ایسے امن معاہدہ پہ قائل کرنے کی سکیم کا حصہ ہو ، جس میں تنازعہ کشمیر سمیت پاک بھارت کے مابین پائے جانے والے سارے علاقائی تنازعات کو نمٹانے کی راہیں مہیا کر دے گی ۔ چنانچہ دریائی پانی کی تقسیم کے معاہدے کی علامتی معطلی کے فیصلہ کا اِس کے سوا کوئی مقصد نہیں کہ مسلہ کشمیر کے حل تک پہنچنے کی راہیں نکالنے والی ہیں ۔
بھارت وسطی ایشائی ریاستوں تک رسائی کے علاوہ سی پیک میں شمولیت کے لئے بھی مضطرب ہو گا لیکن پاکستانی قیادت اس وقت تک بھارت کے ساتھ کسی بھی مفاہمت تک پہنچنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتی جب تک بھارت کشمیر سمیت دیگر تزویراتی سلامتی کے مسائل پر کوئی بامعنی رعایت نہیں دیتا ۔ علی ہذالقیاس ، چین ،بھارت اور پاکستان سمیت خطہ کی تمام قوتیں اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جنوبی ایشیا کا مستقبل ، تنازعہ کشمیر کے حل کے ساتھ معلق ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں ، جو نہ صرف خطہ بلکہ عالمی امن کے لئے بھی ممکنہ طور پر تباہ کن نتائج کے ساتھ جوہری تصادم کے خدشات پیدا کرتے رہتے ہیں ، دوسرا تنازعہ کشمیر علاقائی تعاون اور خطہ کے اقتصادی انضمام میں بڑی رکاوٹ ہے ، جس نے جنوبی ایشیا میں ترقی کے امکانات کو محدود کر رکھا ہے ۔ ماضی میں عالمی طاقتوں کے مفادات ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بامعنی بات چیت اور ہموار مواصلات کی راہ میں حائل ہونے کی وجہ سے تنازعہ کا پُرامن حل ڈھونڈنا دشوار بناتے رہے مگر اب صورت حال کافی مختلف ہے ، تنازعہ کشمیر کو بات چیت، ثالثی یا دیگر پُرامن طریقوں سے حل کرکے کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی کے لئے حالات سازگار ہیں ۔ ہندوستان اور پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے ، تشدد کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے اور بنیاد پرستی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی خاطر ملکر کام کر سکتے ہیں ۔ انڈس واٹر ٹریٹی سمیت آبی وسائل کے انتظام پر باہمی تعاون دونوں ممالک کے لیے پانی تک مساوی مگر پائیدار رسائی کو یقینی بنائے گا ۔ جنوبی ایشیا میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے باہمی تجارت، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سلامتی جیسے شعبوں میں علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ ملنا خطہ کے خوشحال مستقبل کی ضمانت بنے گا ۔ موجودہ صورتحال پُرامن مذاکرات پر نئے سرے سے توجہ مرکوز کرنے اور ایسے پائیدار حل تلاش کرنے کے عزم کا تقاضا کرتی ہے جو ہندوستان اور پاکستان دونوں کی ضروریات کو پورا اور خدشات کو دور کرے گا ۔