ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

​ازبکستان کے لیے پاکستان کی برآمدات 118 ملین ڈالر سے بڑھ گئیں: عبدالعلیم خان

​ازبکستان کے لیے پاکستان کی برآمدات 118 ملین ڈالر سے بڑھ گئیں: عبدالعلیم خان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: باکو، آذربائجان میں دوسرے عالمی سرمایہ کاری فورم کے رکن ممالک کا اجلاس، وزراء اور مندوبین نے شرکت کی ۔ 

​ پاکستان سےوفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی آذربائیجان انٹرنیشنل انویسٹمنٹ فورم میں نمائند گی ،​بین الاقوامی رابطوں کے پاکستان کی تجارت اور معاشی مستقبل پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے خصوصی نشست  ہوئی ۔ 

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ​عالمگیر معاشی تقاضوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے، ​ موجودہ عالمی معاشی و اقتصادی دباؤ سے ہر ملک متاثر ہوا ہے، ​پاکستان نے حکومتی اخراجات کم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں ، ​بحری راستوں میں حالیہ کشیدگی سے کرایوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،​پاکستان علاقائی تجارت کے لیے محفوظ ترین راہداری فراہم کر رہا ہے،   
​کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کی بندرگاہیں مسلسل فعال ہیں۔
 ​کراچی پورٹ نے سالانہ 54 ملین میٹرک ٹن سے زائد کارگو سنبھالا ، ​پاکستان علاقائی امن اور کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔​بہتر روابط پاکستان کو علاقائی تجارتی مرکز میں بدل رہے ہیں، ​پاکستان وسطی ایشیائی ممالک کے لیے سمندری گیٹ وے ہے،​پاکستان کی وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، ​پاکستان کی قازقستان کے لیے برآمدات 240 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔

​ازبکستان کے لیے پاکستان کی برآمدات 118 ملین ڈالر سے بڑھ گئیں، ​پاکستان، چین، کرغزستان اور قازقستان کا چار فریقی تجارتی معاہدہ فعال ہے۔​تجارتی نیٹ ورک میں ازبکستان اور تاجکستان کو بھی شامل کرنے کے لیئے کوشاں ہیں ، ​آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان سالانہ 1500 روڈ پرمٹس کا معاہدہ ہے، ۔​آذربائیجان کے ساتھ معاہدے جنوبی ایشیا کو قفقاز سے جوڑتے ہیں، ​پاکستان داخلی موٹرویز اور تجارتی شاہراؤں کی مسلسل اپ گریڈنگ کر رہا ہے ۔ ​
موٹرویز ایم6 اور ایم 10  ہماری بندرگاہوں کو چین اور وسطی ایشیا تک ڈائریکٹ رسائی میں مدد فراہم کریں گی، ​شاہراہ ریشم کے متبادل کے طور پر ایم این جے سی موٹروے اہم ہے،​انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر توجہ مرکوز ہے، ​ڈیجیٹل کسٹمز اور پیپر لیس نظام سے تجارت آسان بنا رہے ہیں،  
​سی پیک نیٹ ورک کو ای سی او اور ایس سی او سے منسلک کر رہے ہیں، پینل میں ​آذربائیجان کے وزیر اقتصادیات میکائیل جباروف اور ترکیہ کے وزیر خزانہ محمد شمشیک  نےشرکت کی ۔ ازبکستان، مقدونیہ، شام، تاجکستان اور مونٹی نیگرو کے معاشی وزراء بھی پینل ڈسکشن میں شریک تھے۔