ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے اسسٹنٹ کمشنر جھنگ عمران جعفر کے قتل کیس میں سزائے موت اور عمر قید پانے والے باپ بیٹے کو بری کر دیا۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو سزا سنانے کا سیشن عدالت چنیوٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ملزمان اصغر علی اور اس کے بیٹے سہیل اصغر کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے چشم دید گواہوں کی موقع پر موجودگی قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت نہیں ہوتی۔ گواہوں کے بیانات اور میڈیکل رپورٹ میں بھی اہم تضادات موجود ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔عدالت کے مطابق فوجداری مقدمے میں ملزم کو سزا دینے کے لیے استغاثہ پر الزام شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنا لازم ہے، تاہم موجودہ کیس میں استغاثہ شواہد کی کڑی کو اس معیار تک ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔مقدمے کے مطابق اصغر علی اور اس کے بیٹے سہیل اصغر نے 5 دسمبر 2021 کو عمران جعفر کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔ واقعے کے وقت مقتول عمران جعفر اسسٹنٹ کمشنر جھنگ تعینات تھے اور چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے۔مقتول عمران جعفر اور ملزمان آپس میں قریبی رشتہ دار تھے جبکہ دونوں خاندانوں کے درمیان پانی کی نکاسی کا تنازع بھی چل رہا تھا۔
قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران سیشن عدالت چنیوٹ نے ملزم سہیل اصغر کو سزائے موت جبکہ اس کے والد اصغر علی کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ دونوں ملزمان نے سیشن عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔لاہور ہائیکورٹ نے اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ کے شواہد میں موجود اہم تضادات اور چشم دید گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت نہ ہونے کے باعث ملزمان کو شک کا فائدہ دیا جاتا ہے۔عدالت نے دونوں ملزمان کو بری کرتے ہوئے سیشن عدالت چنیوٹ کا سزا سنانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔