ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سابق صدر کو فنڈز کے حصول کیلئے سازش کرنے پر پانچ سال قید کی سزا

سابق صدر کو فنڈز کے حصول کیلئے سازش کرنے پر پانچ سال قید کی سزا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: فرانس کے سابق صدر نکولا سرکوزی کو پیرس کی کریمینل کورٹ نے لیبیا کے معمر قذافی سے فنڈز کھانے کے جرم میں 5 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔  فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی (فرنچ تلفظ نکولا سرکوزی) نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لئے  لیبیا کے سابق ڈکٹیٹر معمر قذافی سے مالی اعانت لی تھی۔ اس مالی اعانت کا  کیس  سرکوزی کی صدارت کے دوران ہی سامنے آیا تھا۔  لیکن مقدمہ بننے اور سزا سنائے جانے میں بہت تاخیر ہوئی۔ 

بنیادی حقائق

پیرس کی ایک فوجداری عدالت نے فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کو مجرمانہ سازش کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے جن میں الزام ہے کہ لیبیا نے ان کی 2007 کی صدارتی مہم کی مالی معاونت کی تھی۔سرکوزی  جدید فرانس کے پہلے سابق صدر ہیں جنہیں کسی جرم میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
سرکوزی جب صدر تھے تو ان پر کرپشن کے کئی الزام لگے تھے جن میں سے ایک پاکستان سے کسی  دفاعی سامان کے سودے میں کمیشن کھانے کا سکینڈل بھی تھا۔

پیرس کی عدالت نے آج سرکوزی کے لیبیا کے صدر  قذافی سے فنڈز حاصل کر کے انہین فرانس کی سیاست میں خرچ کرنے کے مقدمہ کا فیصلہ سنایا تو قید کی سزا کے ساتھ سرکوزی پر 100,000 یورو جرمانہ بھی عائد کیا اور عوامی عہدہ رکھنے پر پانچ سال کی پابندی بھی عائد کی۔

سرکوزی کی سزا کب شروع ہو گی

سرکوزی کی سزا "موخر اثر کے ساتھ" ہے، یعنی قید کی مدت فوری طور پر شروع نہیں ہوتی ہے، لیکن سرکوزی کو ایک ماہ کے اندر اندر طلب کیا جائے گا تاکہ وہ جیل جا کر اپنی سزا کاٹنا  شروع کر سکیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اگر وہ اپیل کرتے ہین  تو بھی فرنچ قانون کے مطابق انہیں اپیل نمٹنے تک سزا شروع نہ ہونے کا وقت دینا چاہیے۔ لیکن عدالت نے سابق صدر سرکوزی کے معاملہ میں  اپیل سے قبل ہی سزا کو قابل عمل قرار دیا جو کہ غیر معمولی ہے۔

سرکوزی پر الزامات اور عدالت نے کیا پایا

یہ الزامات 2005-2007 تک کے ہیں، جب سرکوزی وزیر داخلہ اور پھر صدارتی امیدوار تھے۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ اس نے قذافی حکومت کے ساتھ ایک "معاہدہ" کیا: مالی مدد کے بدلے، وہ عالمی سطح پر لیبیا کی بحالی، سفارتی حمایت یا اثر و رسوخ فراہم کرے گا۔

پیرس کی کریمینل کورٹ کا فیصلہ مجرمانہ سازش (مجرمانہ گٹھ  جوڑ) پر مرکوز ہے۔ عدالت نے پایا کہ سنہ 2005 سے 2007 تک، سرکوزی اور ان کے اتحادیوں نے "سفارتی حمایت" یا  اپنا اثر و رسوخ معمر قذافی کے حق میں استعمال کرنے کے عوض لیبیا سے انتخابی مہم کے فنڈز حاصل کرنے کی سازش کی۔
تاہم، عدالت نے سرکوزی کو غیر فعال بدعنوانی، غیر قانونی مہم کی مالی اعانت، اور غبن کو چھپانے سمیت دیگر الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ اس بات کا کوئی براہ راست ثبوت نہیں ہے کہ لیبیا کی رقم یقینی طور پر ان کی الیکشن مہم کے خزانے تک پہنچی۔
سرکوزی کو سزا سنانے کیلئے عدالت کا استدلال یہ تھا کہ اگرچہ اس مہم سے فنڈز کا کوئی قطعی تعلق نہیں تھا، لیکن سرکوزی نے اپنے قریبی ساتھیوں کو مالی مدد کے حصول کے لیے لیبیا کے حکام تک پہنچنے کی اجازت دی، جو کہ سازش کا عمل تھا۔

شریک مدعا علیہ اور متعلقہ شخصیات

اس جرم میں نکولا سرکوزی کے ساتھیوں میں، کلاڈ گوانٹ اور برائس ہورٹیفیوکس (دونوں سابق وزرا) کو بھی مجرمانہ سازش کا مجرم قرار دیا گیا۔
سرکوزی کی 2007 کی انتخابی مہم کے خزانچی ایرک ورتھ کو متعلقہ الزامات سے بری کر دیا گیا۔

زیاد تقی الدین، ایک تاجر، ایک اہم گواہ رہا ہے۔ اس نے قذافی کے لیبیا سے نقد رقم پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن بعد میں ان بیانات سے مکر گیا۔ فیصلے سے چند روز قبل ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا۔
گواہوں سے چھیڑ چھاڑ یا ان پر اثر انداز ہونے کی تحقیقات بھی جاری ہیں، جس میں ممکنہ طور پر سرکوزی اور ان کی اہلیہ شامل ہیں۔

رد عمل اور اگلے اقدامات

سابق صدر سرکوزی نے الزامات کی تردید کی ہے اور فیصلے کو "ایک ناانصافی" اور سیاسی طور پر محرک قرار دیا ہے۔
عدالت کا فیصلہ اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ یہ جرم کی "غیر معمولی کشش" کی وجہ سے سزا کو فوری طور پر نافذ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اپیل زیر التواء ہے۔سرکوزی نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن یہ اپیل انہیں سزا شروع ہونے کیلئے جیل جانے سے نہیں بچا پائے گی۔

سرکوزی پر دوسرے مقدمات
سرکوزی کی قانونی مشکلات صرف اس کیس تک ہی محدود نہیں ہیں - انہیں متعدد سابقہ ​​سزاؤں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے:

بدعنوانی / اثر و رسوخ پیڈلنگ (وائر ٹیپنگ کیس) - سرکوزی کو 2024 میں الیکٹرانک ٹیگ پہنایا گیا تھا۔سرکوزی کی  2012 کے صدارتی الیکشن میں دوبارہ انتخاب کیلئے امیدوار بننے  (Bygmalion معاملہ) میں مہم کی مالیات کی خلاف ورزیوں کا کیس بھی بنا۔

سیاستدانوں کیلئے معیار مزید اونچا ہو گیا

میڈیا رپورٹوں میں فرانس کے اس صدی کی پہلی دہائی میں مقبول ترین صدر کی  "حیرت انگیز تنزلی"  کی داستان  کو تفصیل کے ساتھ ڈسکس کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ فرانس کے قید کی سزا پانے والے پہلے صدر ہیں۔

سرکوزی کے کیس نے سیاست میں استعمال کی جانے والی رقوم کی اخلاقی حیثیت کے متعلق سوالات پر ایک بہت اونچا معیار قائم کر دیا ہے۔ سرکوزی کی سزا کے اثرات فرانس کی سیاست میں موجود اور بعد میں آنے والے تمام سیاستدانوں پر پڑیں گے اور سب کو اپنی سیاست پر خرچ کی ہوئی پائی پائی کے متعلق جوابدہ ہونا پڑے گا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ عدالت نے فیصلہ دیا کہ سزا قابل عمل ہے چاہے وہ اپیل کرے تب بھی - دوسرے لفظوں میں، سرکوزی کو سزا کاٹنا شروع کر دینا چاہیے، اور وہ اپیل کو قید میں تاخیر کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔
اس سزا سے فرانس میں سابق رہنماؤں کے لیے قانونی احتساب کو کس طرح دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر انتخابی مہم کی فنڈنگ، غیر ملکی اثر و رسوخ اور بدعنوانی کے حوالے سے نئی شکل دے گی۔