پولیس افسران میں اختلافات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

پولیس افسران میں اختلافات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

( عرفان ملک ) حکومتی پالیسی کے خلاف پی ایس پی چیپٹر کو اکٹھا کرنے والے دو سابق سی سی پی اوز صوبہ بدر کر دیئے گئے۔

سی سی پی او عمر شیخ کی آئی جی پنجاب کو اعتماد میں لیے بغیر تعیناتی کے بعد سے ہی مسائل پیدا ہونے لگے۔ سی سی پی او نے لاہور پولیس کے ساتھ اپنے پہلے ہی اجلاس میں آئی جی کے بارے میں ایسی زبان استعمال کی کہ آئی جی نے عمر شیخ کی موجودگی میں کام کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا۔ حکومت نے عمر شیخ کو ترجیح دی اور شعیب دستگیر کو کام کرنے کا کہا گیا لیکن شعیب دستگیر نے معذرت کر لی۔

چین آف کمانڈ ٹوٹنے کے بعد پی ایس پی چیپٹر میدان میں آیا، آئی جی آفس میں اجلاس بلا لیا گیا لیکن اجلاس ختم ہونے سے پہلے ہی شعیب دستگیر کو آئی جی کے عہدے سے ہٹا کر انعام غنی کو آئی جی پنجاب تعینات کر دیا گیا۔

حکومت کو پی ایس پی چیپٹر کا اکٹھا ہونا اچھا نہ لگا۔ وفاق میں ایک میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ایسے افسر جو حکومتی پالیسی کے خلاف متحرک ہوئے  انہیں فوری صوبہ بدر کیا جائے۔

حکومتی پالیسی کے خلاف بولنے والے افسران کو صوبہ بدر کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایڈیشنل آئی جی بی اے ناصر اور ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کو صوبہ بدر کر دیا گیا۔ یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں، آئندہ چند روز میں مزید افسران کو صوبہ بدر کیا جائے گا۔