بڑی یونیورسٹیز کے 900 پروفیسرز کی چوری پکڑی گئی

plagiarism come in universities professor
Professor in Class

عمران یونس: بین الاقوامی ادارے نے تحقیقی مقالوں میں چربہ سازی،مشکوک ڈیٹا شامل کرنے والے اساتذہ اور ان کے اداروں کی فہرست جاری کردی، 900 محقیقین نے اپنے تحقیقی مقالہ جات میں چربہ سازی اور مشکوک ڈیٹا شامل کیا۔

لاہور سمیت ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے پروفیسرز کی چوری پکڑی گئی ہے۔بین الاقوامی ادارے نے تحقیقی مقالوں میں چربہ سازی، مشکوک ڈیٹا شامل کرنے والے اساتذہ اور ان کے اداروں کی فہرست جاری کردی ہے۔ جاری ڈیٹا کے مطابق پاکستان کے 900 محقیقین نے اپنے تحقیقی مقالہ جات میں چربہ سازی اور مشکوک ڈیٹا شامل کیا۔

متعلقہ محقیقن کے 250 سے زائد تحقیقی مقالوں کو مسترد کردیا گیا ہے۔پنجاب یونیورسٹی، یو ای ٹی اور جی سی یو کے محقیقن بھی مشکوک کارروائیوں میں شامل ہیں۔ سب سے زیادہ چربہ سازی قائد اعظم یونیورسٹی کے اساتذہ نے کی۔ مذکورہ اساتذہ اب بین الاقوامی مجلوں میں اپنی تحقیق پبلش نہیں کروا سکیں گے۔