ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے نظر بندی کے قانون کے کیخلاف استعمال اور اس کے سیکشن 3 کی بحالی کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے اور درخواستوں کو واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کی سربراہی میں پانچ رکنی فل بنچ نے تحریک انصاف کی سابق ایم پی اے زینب عمیر سمیت دیگر کی درخواستوں پر تین صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا. عدالت نے درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر نظر بندی کے قانون کو معطل کرنے کے احکامات کو واپس لے لیا ہے. فیصلہ میں درخواست گزار کی نظر بندی کے قانون کے بارے میں تجاویز کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ درخواست گزار کی تجویز ہے کہ نظر بندی کے قانون کو مزید صاف شفاف بنایا جائے . درخواست گزار نے یہ بھی تجویز دی کی کہ نظر بندی کے خلاف اپیل کا حق ہونا چاہیے. اس کیساتھ ساتھ نظر بندی کے قانون کو غلط استعمال پر سزا اور بھاری جرمانہ کیا جائے. تحریک انصاف کی سابق رکن اسمبلی زینب عمیر سمیت دیگر نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواست دائر کی جس میں نظر بندی کے قانون کے استعمال کو چیلنج کیا گیا تھا. ہائیکورٹ کے سنگل بنیچ نے نظر بندی کے قانون کو معطل کیا تھا اور پھر ان درخواستوں پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی.