کورونا وائرس کی شدت 2021ء تک برقرار رہنے کا خدشہ

کورونا وائرس کی شدت 2021ء تک برقرار رہنے کا خدشہ

(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک 4 لاکھ 78 ہزار 289 افراد موت کے منہ میں چلے گئے، 92 لاکھ 95 ہزار 365 افراد متاثر ہوئے، جن میں سے 46 لاکھ 61 ہزار 118 صحت یاب ہوچکے ہیں، سب سے زیادہ 24 لاکھ متاثرین کے ساتھ امریکہ سرفہرست، برازیل دوسرے اور روس تیسرے نمبر پر ہے۔

پاکستان میں بھی کورونا وائرس نے پنجے گاڑ لیے، ملک بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 60افراد چل بسے جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد3755ہوگئی جبکہ کورونا وائرس کے مزید 3892 مریض سامنے آگئے جس کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد ایک لاکھ 89 ہزار کے قریب پہنچ گئی۔ کورونا وائرس کی شدت اور موجودگی 2021ء تک رہنے کا  خدشہ ظاہر کر دیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر کرس وائٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس کی شدت کم سے کم 2021 ء کے موسم بہار تک برقرار رہے گی اور وبا اپنے عروج پر ہوگی، برطانیہ میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اقدام خطرے سے خالی نہیں ہے، لاک ڈاؤن میں نرمی سے لوگوں کو یہ تاثر ملے گا کہ وہ معمول کی زندگی میں واپس آ سکتے ہیں تو وائرس کا پھیلاؤ بڑے پیمانے پر دوبارہ ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے اموات کی شرح خوفناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی تحقیق کے مطابق  کورونا وائرس سے طویل مدتی اثرات کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کے 10 کروڑ سے زائد بچے خط غربت کی لکیر سے نیچے جاسکتے ہیں،  جنوبی ایشیا میں بھارت، پاکستان، افغانستان، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ اور بھوٹان شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکی ماہرین صحت نے اعتراف کیا ہے کہ کورونا وائرس کا ابھی تک کوئی باقاعدہ علاج موجود نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ویکسین تیار ہوسکی ہے تاہم ماسک پہننے سے پھیلاؤ میں کمی آتی ہے۔