(سٹی42) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر کھلاڑی شاہد آفریدی نے آئی سی سی کے دُہرے معیاروں کی نشان دہی کی ہے اور کرکٹ کے بین الاقوامی ادارہ کے اس جانبدارانہ طرز عمل پر دکھ اور مایوسی کا اظہار کیا۔
تفصیلات کے مطابق شاہد آفریدی نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ سابق انٹرنیشنل کرکٹر کی حیثیت سے آئی سی سی کی پالیسی میں تسلسل نہ ہونے کہ وجہ سے انہیں مایوسی ہوئی۔شاہد آفریدی نے کہا کہ آئی سی سی نے 2025 میں پاکستان کا دورہ نہ کرنے کے لیے بھارت کے نام نہاد سکیورٹی خدشات کو تسلیم کیا ، لیکن بنگلہ دیش کے معاملے میں اسی چیز کو سمجھنے پر آمادہ نہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں چیمپئینز ٹرافی کیلئے سکیورٹی کے انتظامات تمام ٹیموں کی توقع سے بڑھ کر تھے۔ پاکستان نے پہلے آئی سی سی کے ایکسپرٹس کو بلوا کر انہین سکیورٹی انتظامات دکھائے، انہوں نے ان انتظامات کو بہترین قرار دیا تھا۔ اس کے بعد اندیا نے اپنی ٹیم لاہور بھیجنے سے انکار کر دیا تھا اور پاکستان کو اس ایونٹ کے سیمی فائنل اور فائنل تک اپنے ملک سے باہر کروانا پڑے تھے۔
سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا تسلسل اور برابری عالمی کرکٹ گورننس کی بنیاد ہے ، بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں اور اس ٹیم کے لاکھوں فینز کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے بھی بنگلہ دیش کیساتھ آئی سی سی کی زیادتی پر اپنے ردعمل میں کہا آئی سی سی کو کسی ایک ملک کے بورڈ کو سپورٹ کرنے کے بجائےانٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرح کام کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل کرلیا ہے۔ بنگلہ دیش نے اپنے کھلاڑیوں کی سکیورٹی کو درپیش حقیقی مسائل کی وجہ سے بھارت کی بجائے کسی غیر جانبدار وینیو پر اپنے ورلڈ کپ میچ رکھے جانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے ہی نکال دیا۔