سٹی42: پاکستان اور روس نے دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی کے مذاکرات کو فعال کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس لعنت پر صرف مشترکہ اقدامات سے ہی قابو پایا جا سکتا ہے۔
پاکستان اور روس کے درمیان دہشتگردی کے انسداد کیلئے تعاون کرنے کے لئے اتفاق رائے وزیر داخلہ محسن نقوی اور روس کے سفیر البرٹ پی خوریو کے درمیان ملاقات میں طے پایا ۔ البرٹ پی غوریو نے ں نے منگل کو اسلام آباد میں وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی۔
اس اہم ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
محسن نقوی ناور روسی ایمبیسیڈر نے انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات میں باہمی تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی ڈائیلاگ کو فعال کرنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے باہمی وفود کے زیادہ سے زیادہ تبادلوں پر بھی اتفاق رائے پیدا ہوا۔
اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی ایک بین الاقوامی چیلنج ہے اور اس لعنت پر کثیر الجہتی مشترکہ اقدامات سے ہی قابو پایا جا سکتا ہے۔
روسی ایمبیسیڈر البرٹ پی غوریو نے پاکستانی افسران کو ماسکو اور سائبیریا میں انسداد منشیات کے تربیتی پروگراموں میں شرکت کی دعوت دی۔
محسن نقوی نے کہا کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے باہمی تعلقات کو فروغ دیں گے۔ محسن نقوی نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
پاک روس مال بردار ٹرین اگلے ماہ شروع ہو گی
اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی پاک روس مال بردار ٹرین سروس سے بھی ہو رہی ہے جس کے 15 مارچ 2025 تک شروع ہونے کی توقع ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران، ترکمانستان، قازقستان اور روس کے ساتھ پاکستان کی علاقائی تجارت کو فروغ دینا ہے۔
تمام کاروباری برادری سے بالعموم اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) سے بالخصوص اس ٹرین کے آئندہ رن کے لیے کوٹینرائزڈ کارگو کے وعدے مانگے گئے ہیں۔
یہ مال بردار ٹرین سروس قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل اور پاکستان انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل سے کام کرے گی، جو 22 ٹن (TEU) اور 44 ٹن (FEU) کے کنٹینرز کی گنجائش کے آپشنز پیش کرے گی۔
پاکستان میں تفتان اسٹیشن اس بین الاقوامی راہداری کے ساتھ ساتھ سامان کی منتقلی کے لیے اہم داخلی مقام کے طور پر کام کرے گا۔
اس سروس کے ذریعے روس تیل، قدرتی گیس، سٹیل اور صنعتی اشیا براہ راست پاکستان کو برآمد کر سکے گا۔
اس کے بدلے میں پاکستانی برآمد کنندگان کو چاول، گندم اور کپاس سمیت ٹیکسٹائل، غذائی مصنوعات اور زرعی اشیا کے لیے ایران، ترکمانستان، قازقستان اور روسی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہو گی۔
پاکستان اور روس نے 27ویں سینٹ کے دوران ریلوے کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF) جون 2024 میں۔
اس معاہدے نے اس مہتواکانکشی منصوبے کی بنیاد رکھی، جس میں جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیا اور روس سے ملانے کے لیے زیادہ موثر اور کفایت شعاری کا تجارتی راستہ قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔