ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

خالدہ ضیاء کے بیٹے کی 17 سال بعد وطن واپسی، بنگلہ دیش میں ہلچل

خالدہ ضیاء کے بیٹے کی 17 سال بعد وطن واپسی، بنگلہ دیش میں ہلچل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب دیسک:  بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قائم مقام چیئرمین اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے طارق رحمان 17 برس کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچ گئے، جسے بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک بڑی اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان جمعرات کے روز لندن میں قیام کے بعد اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ بنگلہ دیش پہنچ گئے۔ وہ صبح تقریباً دس بجے بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے سلہٹ کے عثمانی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچے، جہاں ان کے استقبال کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔

حکام کے مطابق طارق رحمان بعد ازاں دارالحکومت ڈھاکا روانہ ہوئے، جہاں ان کی آمد کے موقع پر بڑے اجتماعات کو کنٹرول کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو الرٹ رکھا گیا۔ سرد موسم کے باوجود بڑی تعداد میں بی این پی کے کارکنان اور حامی ایئرپورٹ پر موجود رہے اور اپنے رہنما کا پرتپاک استقبال کیا۔

طارق رحمان کی واپسی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال حساس بنی ہوئی ہے۔ 18 دسمبر کو نوجوان سیاسی رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل نے حالات کو مزید کشیدہ کر دیا تھا۔ عثمان ہادی پر ڈھاکا میں حملہ کیا گیا تھا، زخمی ہونے کے بعد انہیں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔

اس واقعے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جبکہ کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب بدھ کے روز ڈھاکا کے علاقے مغل بازار میں ایک فلائی اوور سے نامعلوم افراد نے دیسی ساختہ بم پھینکا، جس کے نتیجے میں ایک راہگیر ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آوروں کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شریف عثمان ہادی کے قتل کے خلاف ’انقلاب منچ‘ نامی سماجی تنظیم نے شہید مینار اور شاہ باغ میں احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت کو مطالبات پورے کرنے کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت دی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف کارروائی آئندہ تیرہویں عام انتخابات اور متوقع ریفرنڈم سے قبل مکمل ہونی چاہیے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق طارق رحمان کی وطن واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاست میں نئی سرگرمی اور ممکنہ تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک سیاسی بے چینی، سیکیورٹی خدشات اور آئندہ انتخابی عمل کی تیاریوں کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ان کی موجودگی اپوزیشن سیاست کو نئی سمت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔