گریٹر اقبال پارک واقعہ، اہم محرکات سامنے آگئے

گریٹر اقبال پارک واقعہ، اہم محرکات سامنے آگئے
کیپشن: مینار پاکستان واقعہ
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: گریٹراقبال پارک خاتون کو جنسی ہراساں کرنےکاکیس، آئی جی پنجاب انعام غنی کی کمیٹی کی جانب سے تیارکردہ رپورٹ میں چشم کشا انکشافات۔ ٹک ٹاکرکےعلاوہ دیگرخواتین کو چھیڑنے، دست درازی کی کالزموصول ہوئی۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق ون فائیو پر 33سےزائدکالزموصول ہوئیں، کمیٹی ممبران نے تمام ون فائیو کے کال کرنے والوں سے رابطہ کیا۔ ہلڑ بازی کا واقعہ پیش آیا تب بھی پولیس موقع پر موجود نہ تھی جبکہ 14اگست کو ایس ایچ او لاری اڈا  سمیت 40 اہلکاروں کی نفری تعینات تھی۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ریمبو اور دیگر ہجوم سے 16کالز کی گئیں پولیس موقع پر نہ پہنچ سکی، ڈولفن اہلکاروں کو دیکھ کر ریمبو نے بلایا انہوں نےعوام کو پیچھے ہٹایا۔

عائشہ اکرام کو اہلکارتھانےلےگئے جبکہ ایس ڈی پی او سگریٹ نوشی کرتےرہے، ایس پی سٹی نے فون پر افسران کومعمولی واقعہ قرار دے کرحقائق چھپائے۔ ایس ایس پی اور ڈی آئی جی نے واقعہ بارے آئی جی کو آگاہ نہ کیا اور اعلیٰ افسروں نے 2دن بعد بھی آئی جی انعام غنی کو واقعہ سے لاعلم رکھا۔

آئی جی کی جانب سے خود پوچھنے پرمعمولی واقعہ کہہ کرٹال دیاگیا اور ہلڑبازی کا واقعہ سامنے آنےکےباوجود عوامی مقام پرسیکیورٹی انتظامات نہ کئے گئے۔