بیوروکریسی اور پی ٹی آئی میں سرد جنگ

 بیوروکریسی اور پی ٹی آئی میں سرد جنگ

(قیصر کھوکھر) پنجاب کی بیوروکریسی اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک سرد جنگ جاری ہے، ارکان پی ٹی آئی شکوہ کناں ہیں کہ ان کی بات نہیں سنی جاتی جبکہ بیوروکریٹس کہتے ہیں کہ ہمیں ناجائز کاموں سے روکا گیا ہے جس کی وجہ سے ہم سیاستدانوں کی ناجائز بات نہیں مانتے، ارکان پی ٹی آئی نے اس حوالے سے اعجاز چودھری کی قیادت میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور سے بھی ملاقات کی ۔

 اس ملاقات میں پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کی جانب سے بیوروکریسی کے رویے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، اس موقع پر گورنر پنجاب چودھری سرور نے بھی پی ٹی آئی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی بیوروکریسی کے رویے سے پریشان ہیں اور ارکان اسمبلی کے یہ تحفظات وزیراعظم عمران خان تک پہنچائیں گے، بیوروکریسی اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری اس سرد جنگ کی وجہ سے بہت سے معاملات التواء کا شکار ہیں۔ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نالاں ہیں کہ ان کی کوئی بات نہیں سنتا جبکہ بیوروکریسی خوفزدہ ہے کہ کوئی غلط کام کیا تو ان کی پکڑ ہو جائے گی، احد چیمہ اور فوادحسن فواد ابھی تک شہبازشریف کی ہر بات تسلیم کرنے کی سزا بھگت رہے ہیں۔

 اس حوالے سے بیوروکریسی کا رویہ انتہائی محتاط ہے، جبکہ ارکان اسمبلی چاہتے ہیں ان کی ہربات سنی جائے، بیوروکریسی کے حلقوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ جتنی پی ٹی آئی کے دور میں سیاسی مداخلت ہو رہی ہے شاید اتنی مداخلت میاں شہباز شریف کے دور میں بھی نہیں ہوئی تھی، آج ایس ایچ او سے لے کر تحصیلدار اور اے سی اور ڈی سی اور ڈی پی او تک کے تقرر و تبادلے ارکان اسمبلی کی سفارشوں پر ہو رہے ہیں۔

 حتیٰ کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن (ر) اعجاز احمد اپنے دفتر میں ینگ پی ایم ایس افسران کو یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ اسسٹنٹ کمشنر ز کے تمام تبادلے اوپر سے ہو رہے ہیں اور تقرر و تبادلوں کے حوالے سے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے درمیان ایک لوٹ سیل لگی ہوئی ہے اور ارکان اسمبلی ہاتھوں میں چٹ پکڑے سرکاری دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں، اور پٹواری سے لے کر ٹیچر تک کے تبادلوں میں مصروف عمل ہیں۔ دوسری جانب افسر شاہی یہ کہتی ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی انہیں کام نہیں کرنے دیتے ہیں۔ تحصیل اور ضلع کی سطح کے حالات بہت ہی برے ہیں۔ وہاں پر ارکان اسمبلی ضلعی انتظامیہ کے ہر کام میں مداخلت کر رہے ہیں۔

پنجاب سول سیکرٹریٹ کے تمام محکموں میں حکومتی ارکان اسمبلی چکر لگاتے رہتے ہیں اور ترقیاتی کاموں سے لے کر انتظامی معاملات تک کے کام کروا رہے ہیں اور ایک ریموٹ کنٹرول سے ایوان وزیر اعلیٰ میں بیٹھ کر حکومت کو چلا یا جا رہا ہے۔ افسر شاہی ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھی ہے اور بیوروکریسی کا اپنا ان پٹ تقریباَ ختم ہو کر رہ گیا ہے شاہد یہی وجہ ہے کہ جو احتجاج، ہڑتال اور سڑکوں کو بلاک کرتا ہے اس کا کام ہو جاتا ہے اور بیوروکریسی اپنے طور پر محکموں کی بہتری کے لئے کچھ بھی نہیں کر پا رہی ہے۔ جس سے ایک عام آدمی کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 پولیس اور امن و امان قائم رکھنے والے محکموں کی حالت نہایت ابتر ہے ۔ محکموں کے اندر کوئی کام نہ ہونے سے عوام کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور سائلین کی ایک بڑی تعداد پنجاب سول سیکرٹریٹ کے چکر لگانے میں مصروف رہتی ہے ۔صوبے میں یہ ٹرینڈ اسی وجہ سے بنتا جا رہا ہے کہ اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرو، سڑک بلاک کرو، نعرے لگاﺅ، اور حکومتی اہلکاروں سے مذاکرات کرکے اپنے مطالبات منوا لو۔یہ ٹرینڈ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

 اس حوالے سے ارکان اسمبلی کی بھی نظریاتی تربیت کی ضرورت ہے، انہیں سمجھایا جائے کہ وہ پرانے پاکستان والی سوچ تبدیل کرلیں کہ جس کے تحت وہ ہی اتھارٹی ہوا کرتے تھے، اب صورت حال تبدیل ہو چکی ہے، نئے پاکستان میں بیوروکریسی بااختیار ہے، اور یہ اختیار اسے وزیراعظم نے خود دیا ہے، ارکان کی توقعات یہ ہیں کہ وہ جس بھی دفتر میں جائیں افسران کھڑے ہوکران کا استقبال کریں، ان کی ہر ہدایت پر عمل کریں اور صرف وہ مسائل حل کریں جن کی نشاندہی وہ رکن اسمبلی یا وزیر کرے، جبکہ بیوروکریسی اب ایسا نہیں کرتی، افسران قواعدوضوابط کے تحت کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی تضاد مسائل کو جنم دے رہا ہے۔

کسی سائل کا مسئلہ حل نہ ہو تو وہ وزیراعظم شکایت پورٹل پرشکایت کر دیتا ہے، جس پر بیوروکریسی کو فوری ایکشن لینا پڑتا ہے۔ ارکان اسمبلی اور وزراءاگر بیوروکریسی کو کھل کر کام کرنے کا موقع دیں تو معاملات سلجھ سکتے ہیں، اس صورتحال میں بیوروکریسی پر چیک ضرور رکھا جائے کہ وہ کوئی غیرقانونی کام نہ کریں، غیر قانونی کام کی صورت میں جزا و سزا کا سسٹم فعال کیا جائے، ارکان کی دخل اندازی ختم ہوگی تو خود بخود میرٹ پر مسائل حل ہونا شروع ہو جائیں گے اور سسٹم میں بہتری اسی سے ہی آئے گی۔

قیصر کھوکھر

سینئر رپورٹر