سٹی42: پاکستان کو زچ کرنے کے لئے نام نہاد "کولڈ سٹارٹ آپریشنوں" کی شوقین ہندوتوا کو بھارت کی ریاستی پالیسی بنانے والی نریندر مودی حکومت کو پہلگام میں معصوم سیاحوں کے قتل کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کے خلاف یکطرفہ، بلا اشتعال، بلاجواز اقدامات کا چوبیس گھنٹے میں ہی چھٹی کا دودھ یاد دلا دینے والا خمیازہ بھگتنا پڑ گیا۔ پاکستان سے گزرنے والی درجنوں فلائٹس کو کل اور آج پاک فضا میں آنے کی اجازت نہیں ملی، ائیر انڈیا اور کئی دیگر کمپنیوں کا ایک ہی دن میں دس کروڑ بھارتی روپے سے زیادہ کا نقصان ہو گیا۔
صرف ایک ہفتے میں دہلی ایئرپورٹ پر 300 پروازیں متاثر ہوں گی جس میں اخراجات میں اضافے کے علاوہ پروازوں کی آمد اور روانگی کے اوقات میں تبدیلی شامل ہے۔ باقی ائیرپورٹس سے متاثر ہونے والی فلائٹس الگ ہیں۔
22 اپریل کو انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا طیارہ ’انڈیا ون‘ دلی سے جدہ پہنچا تو اس طیارے نے پاکستانی فضائی حدود کا استعمال کیا اور پاکستان کے فراخ دل ہمسایہ کا کردار ادا کرتے ہوئے مودی کے طیارے کو بخوشی پاکستانی کی فضا سے گزرنے کی اجازت دی۔ مودی کے خصوصی طیارے کی طرح انڈیا کی کئی ائیر لائنز بھی اپنی کمرشل فلائٹس کے لئے پاکستان کی فضائی حدود پاکستان کی اجازت سے استعمال کرتی تھیں لیکن کل یہ صورتحال بدل گئی۔ پاکستان نے بھارت سے تعلق رکھنے والے تمام کمرشل فلائٹس سمیت ہر طرح کے جہازوں کی پاکستانی فضائی حدود میں آمد پر پابندی لگا ی جس پر فوراً عمل بھی شروع ہو گیا۔
پاکستان کے اس اقدام سے بھارتی ائیر لائنز کو ایک ہی روز میں کروڑوں روپے کا نقصان ہو گیا جو اب مسلسل جاری رہے گا۔
انڈیا کے مقبوضہ کشمیر کے پاکستانی کشمیر کی لائن آف کنترول سے چار سو کلومیٹر دور سیاحتی علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد نریندر مودی نے از خود اپنے طیارے کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزارنے سے گریز کر کے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ان کے دماغ میں کیا سازش پک رہی ہے؛ مودی کے طیارے انڈیا ون نے جدہ سے واپس دلی پہنچنے کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بجائے بحیرۂ عرب کے راستے کا انتخاب کیا تھا۔ لیکن مودی کو یہ اندازہ شاید اب تک نہیں ہو سکا کہ وہ جس نام نہاد کولڈ سٹارٹ آپریشن سے ہمسایہ ملک کو خائف کرنا چاہ رہے ہیں اس کا جواب ہاٹ پرسوئیٹ سے ملے گا، وہ بھی ایسا کہ فوری نقصانات ہوں گے۔
پاکستان نے نئی دہلی کی طرف سے پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے طے شدہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی، اٹاری بارڈر کی بندش سمیت دیگر اقدامات کے جواب میں انڈین پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاحال انڈیا نے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ غالباً نریندر مودی جی کے پاس "ردِ عمل کا ردعمل" دینے کے لئے کچھ ہے بھی نہیں کیونکہ پاکستان ان کے ہر اقدام کا دو گنا جواب دینے کے لئے دن رات تیار ہے۔
صرف ان فلائٹس کو پاکستانی حدود سے گزرنے کی اجازت ملی جو حکم نافذ ہونے کے وقت پاکستانی فضا میں تھیں
ایئر ٹریفک کا ڈیٹا فراہم کرنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق گذشتہ روز کیے جانے والے پاکستانی اعلان کے بعد بعض انڈین پروازوں پر سب سے زیادہ نظر رکھی جا رہی تھی، مثلاً دہلی سے جرمنی، ٹورنٹو سے دہلی اور کویت سے بنگلور۔ دو انڈین پروازیں (شارجہ سے احمد آباد اور امرتسر سے دبئی) اس اعلان کے وقت پاکستانی فضائی حدود میں تھیں، جنھیں اڑان جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔
انڈیا کے کئی شہروں سے یورپ، امریکہ اور مشرق وسطیٰ جانے والی فلائٹس کمرشل فوائد کے لئے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔ پاکستان اپنی فضائی حدود کسی غیر ملکی جہاز کو دینے یا نہ دینے کا مکمل حق رکھتا ہے، کل پاکستان نے اس حق کو استعمال کیا اور انڈین ائیر لائنز کو پاکستانی فضائی حدود سے دور رہنے کا حکم دے دیا۔
،تصویر کا کیپشن22 اپریل کو نریندر مودی کی پرواز ’انڈیا ون‘ پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے جس راستے دلی سے جدہ پہنچی تھی اس نے واپسی پر اُسی راستے کا انتخاب نہیں کیا
پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے بھارتی ایئر لائنز کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور بھارت سے یورپ اور امریکہ جانے والی پروازوں کے دورانیے میں اضافہ ہوگیا ہے، ان فلائٹس کے لیے زیادہ ایندھن استعمال ہونے لگا ہے اور نتیجتاً ٹکٹ بھی مہنگے ہو گئے ہیں۔
2019 میں مودی نے اپنی ائیر لائنز کا 700 ارب روپیہ ڈبویا
2019 میں بھارت نے بالاکوٹ میں نام نہاد سرجیکل سٹرائیک حملہ کیا تھا جس کے جواب میں پاکستان ائیر فورس نے ایک انڈین طیارہ مار گرایا تھا۔ تب بھی پاکستان نے اپنی فضا کو انڈین ائیر لائنز کے لئے بند کر دیا تھا جس کے نتیجہ میں ایک تخمینہ کے مطابق انڈین ایئر لائنز کو 700 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔
اس برس پاکستان نے قریب پانچ ماہ (فروری تا جولائی) انڈین پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی جس سے انڈیا کی قومی ایئر لائن ایئر انڈیا سمیت دیگر انڈین ایئرلائنز کو بڑا نقصان ہوا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ایک اہم ایوی ایشن کوریڈور ہے۔ انڈیا کی جن پروازوں کو پاکستانی فضائی حدود سے گزرنا تھا، وہ منسوخ کی گئیں اور دیگر پروازوں کا روٹ تبدیل کرنا پڑا۔
سنہ 2019 میں انڈیا کے وزیر ہوا بازی ہردیپ سنگھ پوری نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ ایئر انڈیا، سپائس جیٹ، انڈیگو اور گو ایئر جیسی انڈین ایئرلائنز کو پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے آٹھ کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
ہردیپ سنگھ پوری سے انڈیا کی راجیہ سبھا میں یہ سوال کیا گیا تھا کہ 27 فروری 2019 سے پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے ایئر انڈیا اور دیگر انڈین ایئرلائنز کو کتنا نقصان جھیلنا پڑا ہے؟تین جولائی 2019 کو اس کے جواب میں انھوں نے بتایا تھا کہ پاکستان کے اس ’یکطرفہ‘ اقدام سے ایئر انڈیا کو 491 کروڑ، انڈیگو کو 25.1 کروڑ، سپائس جیٹ کو 30.73 کروڑ اور گو ایئر کو 2.1 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
بھارت کے وزیر ہوابازی نے دسمبر 2019 کے دوران دوبارہ بتایا تھا کہ اس اقدام سے سفر کا دورانیہ بڑھا، صارفین کے لیے ٹکٹیں مہنگی ہوئیں، ایئر ٹریفک کنٹرولرز پر بوجھ بڑھا تھا۔
اس دوران بین الاقوامی ایئرلائنز کی پروازیں بھی متاثر ہوئی تھیں۔ جیسے امریکی کمپنی یونائیٹڈ ایئرلائنز نے فضائی حدود کی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ سے دلی اور ممبئی کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی تھیں۔
اس اقدام سے واضح طور پر انڈیا کی قومی ایئر لائن ایئر انڈیا کو سب سے زیادہ نقصان ہوا تھا۔ جب جولائی میں پاکستان نے انڈین پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بحال کی تھی تو اس وقت ایئر انڈیا کے ڈائریکٹر آپریشنز کیپٹن امیتابھ سنگھ کو بتایا تھا کہ اب انڈین پروازوں کو وقت اور ایندھن کی بچت ہوگی۔
انڈین نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ کو دیے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود کے کھلنے سے ’انڈیا سے یورپ اور انڈیا سے امریکہ جانے والی پروازوں کا دورانیہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک کم ہو جائے گا۔ ہماری ایندھن کی کھپت کم ہوگی۔ اخراجات میں بڑی کمی آئے گی۔‘
ایئر انڈیا کے اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے اسے یومیہ چھ کروڑ روپے (بھارتی روپے) کا نقصان ہوا تھا۔
پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے بھارتی ایئر لائنز کے لیے ایندھن کی لاگت اور آپریشنل پیچیدگیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بھارت سے وسطی ایشیا، مغربی یورپ، مغربی ایشیا، برطانیہ اور امریکا جانے والی پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔
پاکستان سے گزر کر بھارت آنے اور جانے والی دوسرے ملکوں کی ایئر لائنز بدستور آپریٹ کرتی رہیں گی۔ بھارتی ایئر لائنزپر پابندی سے دیگر ایئر لائنز کو فائدہ ہوگا جن کا ان روٹس پر بھارتی ائیر لائنز سے براہ راست مقابلہ ہے۔
بالاکوٹ حملے کے بعد بھارت کی قومی ایئر لائن ایئر انڈیا سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی۔ اب ائیر انڈیا سمیت تمام بھارتی ایرلائنز کو اب شمالی امریکا، یورپ، برطانیہ اور مشرق وسطیٰ جانے کے لیے متبادل راستے اختیار کرنا ہوں گے۔ پاکستانی پابندیوں سے ایئر انڈیا کے ساتھ انڈی گو، سپائس چیٹ کی فلائٹس کا روٹ تبدیل ہو جائے گا، جس سے فلائٹس کے دورانیے اور ایندھن کی لاگت میں اضافہ ہوگا ۔
روزانہ درجنوں فلائٹس براہ راست متاثر ہو گئیں
روزانہ 70 سے 80 پروازیں بھارت آنے اور جانے کے لیے پاکستانی فضائی حدود سے گزرتی ہیں۔ بعض اوقات بھارت آنے اور جانے والی پروازوں کی تعداد 100 سے بھی تجاوز کر جاتی ہیں ۔
پاکستان سے گزرنے والی بھارتی پروازیں زیادہ تر یورپ، شمالی امریکا، مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے لیے ہوتی ہیں۔ پاکستانی پابندیوں کے نتیجے میں ممبئی، احمد آباد، لکھنؤ،دہلی اور گوا آنے جانے والی فلائٹس سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ اب انڈین ایئر لائنز کو ممبئی اور دہلی سے آنے جانے والی پروازوں کو بحیرہ عرب کے اوپر سے گزارنا ہوگا ۔
دہلی سے باکو اور تبلیسی جانے والی پروازوں کے دورانیے میں 90 منٹ کا اضافہ ہوگیا۔
دہلی سے الماتا سروس مکمل طور پر بند ہو گئی ہے جب کہ شمالی بھارت سے متحدہ عرب امارات جانے والی پروازوں کا دورانیہ بڑھنے سے اضافی ایندھن استعمال کرنا پڑے گا ۔
انڈیا کی ائیر لائنز کا ردعمل
پاکستان کی جانب سے فضائی حدود بند کرنے کے بعد انڈیا سے مغربی روٹ استعمال کرنے والی سب سے بڑی ایئرلائن ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس اقدام سے ’شمالی امریکہ، برطانیہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ جانے یا وہاں سے آنے والی پروازوں کو متبادل طویل روٹ استعمال کرنا پڑے گا۔‘
ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ فضائی حدود کی غیر متوقع بندش ’ہمارے کنٹرول میں نہیں‘ اور ’صارفین کو پہنچنے والی اس تکلیف پر ایئر انڈیا کو افسوس ہے۔‘
جبکہ انڈین ایئرلائن انڈیگو کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود کی اچانک بندش کے اقدام سے ’ہماری چند انٹرنیشنل پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔‘
دونوں ایئرلائنز نے صارفین سے کہا ہے کہ اگر اس معاملے سے ان کی پرواز متاثر ہوئی ہے تو وہ ریفنڈ (رقم واپسی) کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔
ایوی ایشن سروس ’سیریئم‘ نے انڈین نیوز ویب سائٹ لائیو منٹ کو بتایا ہے کہ اس اقدام سے سب سے زیادہ ایئر انڈیا اور دلی ایئرپورٹ متاثر ہوں گے۔ اس کے ڈیٹا کے مطابق دلی سے ایئر انڈیا کی یورپ اور شمالی امریکہ کے لیے ہفتہ وار 134 پروازیں اڑان بھرتی ہیں جو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔
سیریئم کے مطابق دلی ایئرپورٹ سے سعودی، متحدہ عرب امارات، اومان، کویت، قطر اور بحرین کے لیے ہفتہ وار 144 پروازیں اڑان بھرتی ہیں اور یہ بھی پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔