ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  راکھ کا بادل پاکستان آ گیا، پروازوں کو خطرہ لاحق، سرکاری الرٹ آگیا

City42, Dust cloud, eruption, Ethiopia, Volcano,
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: ایتھوپیا میں 12000 سال سے سویا ہوا آتش فشاں اچانک جاگ گیا تو صرف ایتھوپیا ہی نہیں بلکہ ہزاروں میل دور پاکستان تک زمین کا ماحول سخت مسائل سے دوچار ہو گیا۔ پاکستان میں ہوائی جہازوں کی فلائٹس بھی راکھ کے بادل کی زد میں آنے کا خطرہ ہے۔

فرانس کے ادارہ نے اطلاع دی کہ ایتھوپیا میں پھٹنے والے آتش فشاں پہاڑ سے نکلنے والی راکھ کا بادل بن کر پاکستان کی طرف جا رہا ہے۔ اس راکھ  (اور دھویں)کے بادل سے علاقہ کے ماحول کو سخت خطرہ ہے۔

فرانس کے ادارہ کی اطلاع پاکستان میں بھی پھیل گئی تو پاکستان کے میٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس صورتحال کی تصدیق کر دی۔ میٹ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ آتش فشاں کی راکھ گوادر کے جنوب میں 60 ناٹیکل میل کی دوری پر سمندرکے اوپر دیکھی گئی ہے۔ 

اس سے پہلے یہ خبریں آئیں کہ ہیلی گُبی آتش فشاں پھٹ گیا جس سے نکلنے والا دھواں 46 ہزار فُٹ کی بلندی تک پہنچ گیا۔

ایتھوپیا میں آتش فشاں ہیلی گُبی کے اچانک بہت زیادہ قوت کے ساتھ  پھٹنے سے  راکھ اور دھویں کے جو بادل اٹھے وہ اتنے گہرے، دبیز اور مربوط ہیں کہ ہزاروں میل دور  یمن ، عمان، بھارت اور  پاکستان تک آ  پہنچے ہیں۔

اس صورتحال پر ابتدا میں خاموش رہنے والے  پاکستان میٹیریولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے بھی اب ایتھوپیا کے آتش فشاں سے متعلق الرٹ جاری کردیا۔

ایتھوپیا میں دارالحکومت ادیس ابابا سے تقریباً 800 کلومیٹر دور افار ریجن میں  12 ہزار سال سےخاموش   آتش فشاں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی آلودگی نے دنیا بھر کے ماہرین کو چونکا دیا ہے۔  لیکن دلچسپ بات ہے کہ پاکستان جو اس صورتحال سے اتفاقاً براہ راست متاثر ہو رہا ہے وہاں ماہرین نے اس معاملہ پر اب تک خاموشی اختیار کئے رکھی۔

اب پیر کی شام یٹیریولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے بتایا کہ  محکمہ موسمیات نے پہلی بار کسی آتش فشاں کی راکھ سے متعلق الرٹ جاری کیا، یہ راکھ 45ہزار فٹ کی بلندی پرتھی۔

 ایتھوپیا میں 12 ہزار سال سے خاموش آتش فشاں پھٹ گیا، راکھ کے بادل پاکستان تک پہنچ گئے 
  پاکستان کی ڈومیسٹک پروازیں 34 سے 36 ہزار فٹ جبکہ بین الاقوامی پروازوں کے جہاز 40 سے 45 ہزار فٹ کی بلندی پر ہوتے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ  یہ راکھ بین الاقومی پروازوں کے جہاز کے انجن کو متاثر کرسکتی ہیں۔

ہیلی گُبی آتش فشاں 12 ہزارسال میں پہلی بارپھٹا ہے۔ آتش فشاں پھٹنے سے جانی نقصان یا انخلا کا نہیں بتایا۔