سٹی42: بھارت کے پراکسی دہشت گردوں کا نشانہ بنی ہوئی پاکستانی ٹرین جعفر ایکسپریس پر ایک اور حملہ ہو گیا۔
aاس مرتبہ بھارت کے پراکسی دہشتگردوں نے مچھ اور آب گم ریلوے اسٹیشن کے درمیان جعفر ایکسپریس چھپ کر فائرنگ کی۔ اس فائرنگ سے ٹرین میں سوار کسی مسافر کو کوئی زک نہیں پہنچی تاہم مسافروں میں خوف و ہراس ضرور پھیل گیا۔
ریلوے حکام نے بعد میں تصدیق کی کہ مچھ اور آبِ گم ریلوے سٹیشنوں کے درمیان صحرائی علاقہ میں جعفر ایکسپریس پر فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،۔
سیکورٹی کلیرنس کے بعد ٹرین کو آگے روانہ کر دیا گیا۔
جعفر ایکسپریس فائرنگ کے واقعہ کے بعد معمول کے مطابق منزل کی طرف رواں دواں ہے۔
جس ٹرین پر آج فائرنگ ہوئی وہ کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی۔
جعفر ایکسپریس بھارت کے پراکسی دہشتگردوں کے چھپ کر حملوں کامسلسل نشانہ کیوں بنتی ہے
جعفر ایکسپریس بظاہر ایک عام مسافر ٹرین ہے لیکن یہ پاکستان کے طول و عرض میں بسنے والے پاکستانیوں کو باہم ملاتی ہے۔ یہ ٹرین خیبر پختونخوا صوبہ کے دارالحکومت پشاور کے کینٹ ریلوے سٹیشن سے چلتی ہے اور پنجاب اور سندھ کے اہم شہروں سے گزرتی ہوئی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن تک جاتی ہے اور وہاں سے مسافروں کو لے کر واپس پشاور کینٹ تک آتی ہے۔ پشاور کینٹ اپ سائیڈ پر بیشتر ٹرینوں کی ابتدا کا سٹیشن ہے۔
جعفر ایکسپریس کی تیز سپیڈ
جعفر ایکسپریس اپنی تیز سپیڈ کے لئے بھی مشہور ہے۔ پاکستان کے زیادہ علاقوں مین ریلوے ٹریک پرانے اور بعض جگہوں پر بوسیدہ ہیں، ان ٹریکس پر جعفر ایکسپریس میکسیمم سپیڈ تک بھی بھاگتی ہے جو 127 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور عموماً سیدھے ٹریکس پر 118 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔ سیدھے ٹریکس پر اس کی اوسط سپیڈ 109 کلومیٹر فی گھنٹہ سے 113 کلومیٹر فی گھنٹے تک رہی ہے۔ہے۔

بھارت اپنے پراکسی دہشتگردوں کے ذریعہ بلوچستان کے میلوں تک ویران صحرائی علاقوں میں اس ٹرین پر چھپ کر حملے کرواتا ہے اور اس ٹرین پر سفر کو غیر محفوظ ہونے کا تاثر دینے کی سرتوڑ کوشش کرتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ ٹرین مسافروں سے لبالب بھر کر چلتی ہے۔
جعفر ایکسپریس کا روٹ بلوچستان، سندھ، ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کئی اہم ترین شہروں کو آپس میں ملاتا ہے۔ جعفر ایکسپریس پشاور چھاؤنی اور کوئٹہ کے درمیان تقریباً 34 گھنٹے میں تقریباً 1,632 کلومیٹر (1,014 میل) کا فاصلہ طے کرتی ہے۔
ٹرین تقریباً 40 اسٹیشنوں پر رکتی ہے، اس کے روٹ پر بڑے بڑے شہروں میں
سبی
مراد جمالی کی وفات
جیکب آباد جنکشن
روہڑی جنکشن
بہاولپور
ملتان کنٹونمنٹ
خانیوال جنکشن
ساہیوال
چاہیے
رائے ونڈ جنکشن
لاہور جنکشن
گوجرانوالہ
وزیرآباد جنکشن
گجرات
لالہ موسیٰ جنکشن
اگلا
راولپنڈی
اٹک سٹی جنکشن
نوشہرہ جنکشن
پشاور سٹی
پشاور کنٹونمنٹ شامل ہیں۔