سٹی42: مسلم لیگ نون کی سینئیر نائب صدر اور پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز نے اتوار کے روز پی ٹی آئی کے سزا یافتہ رہنماؤں کی چھوڑی ہوئی نشستوں پر ضمنی انتخاب کو عوامی ریفرنڈم قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ ضمنی الیکشن نہیں ریفرنڈم تھا، پنجاب اور پختونخوا کے عوام نے ن لیگ کے حق میں فیصلہ کیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے مسلم لیگ ن نے بیانیے پر نہیں کارکردگی پر ضمنی الیکشن جیتا، آج نہ فیض حمید ہے اور نہ وہ ججز جو پی ٹی آئی کو جتواتے تھے۔
صوبائی وزرا اور سیکرٹریز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا یہ الیکشن نہیں ریفرنڈم تھا، ضمنی الیکشن میں کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں، مسلم لیگ ن نے 2024 کے الیکشن میں ہاری ہوئی اپنی نشستیں دوبارہ جیت لیں، ضمنی الیکشن میں ن لیگ کو تاریخی کامیابی ملی۔
مریم نواز نے کہا، ا پنجاب اور خیبرپختونخوا کے عوام نے مسلم لیگ ن کے حق میں فیصلہ کیا، الیکشن بیانیوں سے نہیں کارکردگی کے بل بوتے پر جیتا جاتا ہے، عوام نے مسلم لیگ ن کی کارکردگی پر اعتماد کر کے ووٹ دیا۔
کل اتوار کے روز پنجاب میں جتنے حلقوں میں انتخاب ہوا ان سب میں مسلم لیگ نون نے آسانی سے فتح حاصل کر لی۔ یہ سب حلقے پی ٹی آئی کے اہم ترین لیڈروں کو نو مئی سانحہ کے دوران ہونے والے سنگین جرائم کی سزا ہو جانے کے سبب خالی ہوئے ہیں۔ کل اتوار کے روز ہونے والے ضمنی انتخاب واضح طور پر پی ٹی آئی کے لیدروں کو 9 مئی سانحہ کے دوران ہونے والے جرائم پر سنائی گئی سزاؤں کے متعلق عوامی ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے تھے۔ فیصل آباد کے ایک حلقے میں پی ٹی آئی کے امیدوار نے جیتنے والے مسلم لیگی امیدوار سے آدھے سے بھی کم ووٹ لئے اور باقی تمام حلقوں میں پی ٹی آئی کے کسی امیدوار کو نمایاں ووٹ ہی نہیں ملےْ قومی اسمبلی کی تمام 6 اور پنجاب اسمبلی کی 7 میں سے 6 سیٹوں پر مسلم لیگ نون کامیاب ہوئی۔
ان ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ نون کی کامیابی کے بعد مریم نواز نے کہا کہ تحریک لبیک کو 2017 کے ضمنی الیکشن میں (مسلم لیگ نون کو ڈیمیج کرنے کے لئے) لانچ کیا گیا تھاا، گلگت بلتستان میں مسلم لیگ نون نے کامیاب جلسے کیے تھے لیکن ہم سے سیٹیں چھینی گئیں۔
سب کو پتا ہے کہ دھاندلی کب اور کس کے لیےہوئی تھی، لیکن مسلم لیگ ن اپنے موقف پر قائم رہی، عوام اب "بیانیوں" سے تنگ آ گئے ہیں، "بیانیوں" سے ملک ترقی نہیں کرتے، کارکردگی سے بہتر کوئی بیانیہ ہو ہی نہیں سکتا۔
مریم نواز نے کہا کہ ہری پور میں مسلم لیگ ن کی جیت کو سب نے دیکھا، بیانیے والوں کو کام کرنا نہیں آتا، صرف نوجوانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے، پی ٹی آئی نے قیدی نمبر804 کے نام پر الیکشن لڑا لیکن شکست ہوئی، ضمنی الیکشن میں مقبولیت کے دعوے زمین بوس ہو گئے۔
وزیراعلیٰمریم نے مزید کہا، 2018 میں ملک کو ڈی ریل کیا گیا تھا۔ آج نہ فیض حمید ہے نا وہ جج ہیں جو پی ٹی آئی کو الیکشن جتواتے تھے۔
فیض حمید کی پوری طاقت پی ٹی آئی کے ساتھ تھی۔
مریم نواز نے کہا، بائیکاٹ تب ہوتا ہے جب آپ کو ہار کا یقین ہو، میں نے اور نواز شریف نے جیل کاٹی مگر الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کیا۔